data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) سندھ گریجویٹس ایسوسی ایشن کے زیراہتمام ورلڈ ٹیچرز ڈے ایوارڈ ڈسٹری بیوشن تقریب ممتاز مرزا آڈیٹوریم، سندھ میوزیم حیدرآباد میں منعقد ہوئی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی کمشنر حیدرآباد فیاض حسین عباسی تھے۔ تقریب کا مقصد اُن اساتذہ کو خراجِ تحسین پیش کرنا تھا جنہوں نے نئی نسل کی تعلیم و تربیت میں نمایاں کردار ادا کیا اور معاشرے کے مستقبل کو سنوارنے میں اپنی خدمات پیش کیں۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کمشنر حیدرآباد فیاض حسین عباسی نے کہا کہ اساتذہ قوم کے معمار ہیں۔ ایک استاد محض علم نہیں دیتا بلکہ وہ طلبہ کی شخصیت سازی، کردار سازی اور ان کے مستقبل کی بنیاد رکھتا ہے۔ استاد دراصل ایک لیڈر ہوتا ہے جو اپنی مثال سے طلبہ کو راہِ عمل دکھاتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک اچھا استاد اپنے طلبہ میں اعتماد، نظم و ضبط اور اخلاقی قدریں پیدا کرتا ہے۔ ایک طالب علم اپنے والدین اور استاد دونوں کی عکاسی کرتا ہے، اس لیے اساتذہ پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ طلبہ کی رہنمائی بہترین انداز میں کریں۔ کمشنر فیاض حسین عباسی نے اساتذہ کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیشہ طلبہ کی اچھی کارکردگی کو عوامی طور پر سراہیں اور اگر کسی کو سمجھانا ہو تو انفرادی طور پر سمجھائیں یہی ایک کامیاب استاد کی خوبی ہے۔انہوں نے کہا کہ طلبہ کی خوداعتمادی اور حوصلہ افزائی ان کی تعلیمی کامیابی کی کنجی ہے اور استاد کو ہمیشہ اپنے شاگردوں کے لیے رہنما اور مشیر کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ کمشنر فیاض حسین عباسی نے کہا کہ اساتذہ وہ چراغ ہیں جو اپنی روشنی سے دوسروں کی زندگی روشن کرتے ہیں۔ قوم کا مستقبل انہی کے ہاتھوں میں ہے، اس لیے ان کی عزت و تکریم ہم سب کا اخلاقی فریضہ ہے۔کمشنر فیاض حسین عباسی نے اپنی تقریر میں سندھ گریجوئیٹس ایسوسی ایشن کی سماجی خدمات اور تعلیمی سرگرمیوں کو بھی بھرپور خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسوسی ایشن نے ہمیشہ تعلیم، سماجی فلاح اور انسانی خدمت کے میدان میں قابلِ ستائش کردار ادا کیا ہے۔ اس طرح کی تنظیمیں معاشرے میں مثبت تبدیلی اور ترقی کا ذریعہ بنتی ہیں۔تقریب کے اختتام پر کمشنر حیدرآباد نے بہترین اساتذہ اور نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ میں ایوارڈز اور شیلڈز تقسیم کیے اور ان کی خدمات کو سراہا۔

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: فیاض حسین عباسی نے طلبہ کی کہا کہ

پڑھیں:

کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک

ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔اسپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا ہےکہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ایس آئی یو کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےدوران ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار  تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا  تھا جب کہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں پولیس نے تفتیشی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں واردات میں نامعلوم خاتون کے ملوث ہونے کاانکشاف بھی کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی واردات کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں گرفتار ملزمان کے بینکوں کے باہر رقم چھیننے اور تاجر کو لوٹنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک