WE News:
2026-07-24@01:26:55 GMT

سپریم کورٹ میں 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں پر سماعت

اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT

سپریم کورٹ میں 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں پر سماعت

سپریم کورٹ میں 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت دوبارہ شروع ہوگئی۔ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں آٹھ رکنی آئینی بینچ کیس کی سماعت کر رہا ہے۔

بینچ کی تشکیل اور ارکان

آئینی بینچ میں جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم افغان اور جسٹس شاہد بلال شامل ہیں۔

وکلاء کی پیشی اور ابتدائی مکالمہ

سماعت کے آغاز پر سابق صدور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے وکیل عابد زبیری روسٹرم پر آئے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ امید ہے آج آپ اپنے دلائل مکمل کر لیں گے، جس پر عابد زبیری نے جواب دیا کہ جی، آج دلائل مکمل کر لوں گا۔

یہ بھی پڑھیں:’26 ویں آئینی ترمیم پر فل کورٹ تشکیل دینا قانونی تقاضا ہے‘

بعد ازاں وکیل اکرم شیخ نے روسٹرم سنبھالا اور عدالت سے گزارش کی کہ کارروائی کا آغاز بسم اللہ سے ہونا چاہیے تاکہ ماحول بہتر رہے۔ انہوں نے یہ بات ہلکے پھلکے انداز میں کہی۔

وکلا کے دلائل کے لیے وقت مقرر کرنے کی تجویز

اکرم شیخ نے مزید کہا کہ وکلاء کو دلائل دینے کے لیے وقت مقرر کیا جائے۔ جسٹس امین الدین نے کہا کہ وقت کی پابندی سب پر لاگو ہوگی۔

بینچز کی تشکیل پر عابد زبیری کے دلائل

عابد زبیری نے اپنے دلائل میں کہا کہ بینچز کی تشکیل پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کا اختیار ہے۔ ان کے مطابق آئینی بینچز کی تشکیل کا اختیار آئینی کمیٹی کے پاس ہوتا ہے، جو صرف آئینی بینچ کے لیے 15 ججز کو نامزد کر سکتی ہے۔

عدالتی سوالات اور مکالمے

جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ آپ چاہتے ہیں ہم آئینی بینچ میں رہتے ہوئے فل کورٹ بنانے کا حکم دے سکتے ہیں؟

جسٹس عائشہ ملک نے سوال اٹھایا کہ کیا آرٹیکل 191 اے فل کورٹ تشکیل دینے پر کوئی قدغن لگاتا ہے؟ اور کیا سپریم کورٹ جوڈیشل کمیشن کو تمام ججز کو آئینی بینچ کا حصہ بنانے کا حکم نہیں دے سکتی؟

ججز کے مشاہدات

جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ اگر جوڈیشل کمیشن کوئی غیر آئینی فیصلہ کرے تو سپریم کورٹ اسے کالعدم قرار دے سکتی ہے۔

جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار برقرار رہے گا، سوال یہ ہے کہ کیا جوڈیشل کمیشن سپریم کورٹ سے بالاتر ہے؟

فل کورٹ کے قیام پر بحث

وکیل عابد زبیری نے کہا کہ فل کورٹ آئینی بینچ تشکیل دے سکتا ہے، تاہم آئینی بینچ خود فل کورٹ نہیں بنا سکتا۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ کی تعریف کے مطابق کمیٹی کے پاس فل کورٹ بنانے کا اختیار نہیں۔

عابد زبیری نے جواب دیا کہ اگر چیف جسٹس آئینی بینچ کے سربراہ ہوں تو وہ فل کورٹ تشکیل دے سکتے ہیں۔

بین الاقوامی مثالوں کا حوالہ

عابد زبیری نے جنوبی افریقہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں آئینی بینچ کی اپیل سپریم کورٹ میں ہوتی ہے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ بھارت میں چیف جسٹس کو آئینی بینچ بنانے کا اختیار حاصل ہے، مگر پاکستان میں صورتحال مختلف ہے۔

موجودہ پیشرفت

سماعت کے دوران جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اب معاملہ واضح ہے، وکیل جوڈیشل کمیشن کی مداخلت نہیں چاہتے۔

عدالت نے وکلاء کو آئندہ سماعت پر اپنے دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

26ویں ترمیم اکرم شیخ جسٹس عائشہ سپریم کورٹ عابد زبیری.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: 26ویں ترمیم اکرم شیخ سپریم کورٹ جسٹس جمال مندوخیل نے جوڈیشل کمیشن سپریم کورٹ کا اختیار نے کہا کہ کی تشکیل بنانے کا فل کورٹ کے لیے

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن