WE News:
2026-06-03@02:23:50 GMT

سپریم کورٹ میں 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں پر سماعت

اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT

سپریم کورٹ میں 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں پر سماعت

سپریم کورٹ میں 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت دوبارہ شروع ہوگئی۔ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں آٹھ رکنی آئینی بینچ کیس کی سماعت کر رہا ہے۔

بینچ کی تشکیل اور ارکان

آئینی بینچ میں جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم افغان اور جسٹس شاہد بلال شامل ہیں۔

وکلاء کی پیشی اور ابتدائی مکالمہ

سماعت کے آغاز پر سابق صدور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے وکیل عابد زبیری روسٹرم پر آئے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ امید ہے آج آپ اپنے دلائل مکمل کر لیں گے، جس پر عابد زبیری نے جواب دیا کہ جی، آج دلائل مکمل کر لوں گا۔

یہ بھی پڑھیں:’26 ویں آئینی ترمیم پر فل کورٹ تشکیل دینا قانونی تقاضا ہے‘

بعد ازاں وکیل اکرم شیخ نے روسٹرم سنبھالا اور عدالت سے گزارش کی کہ کارروائی کا آغاز بسم اللہ سے ہونا چاہیے تاکہ ماحول بہتر رہے۔ انہوں نے یہ بات ہلکے پھلکے انداز میں کہی۔

وکلا کے دلائل کے لیے وقت مقرر کرنے کی تجویز

اکرم شیخ نے مزید کہا کہ وکلاء کو دلائل دینے کے لیے وقت مقرر کیا جائے۔ جسٹس امین الدین نے کہا کہ وقت کی پابندی سب پر لاگو ہوگی۔

بینچز کی تشکیل پر عابد زبیری کے دلائل

عابد زبیری نے اپنے دلائل میں کہا کہ بینچز کی تشکیل پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کا اختیار ہے۔ ان کے مطابق آئینی بینچز کی تشکیل کا اختیار آئینی کمیٹی کے پاس ہوتا ہے، جو صرف آئینی بینچ کے لیے 15 ججز کو نامزد کر سکتی ہے۔

عدالتی سوالات اور مکالمے

جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ آپ چاہتے ہیں ہم آئینی بینچ میں رہتے ہوئے فل کورٹ بنانے کا حکم دے سکتے ہیں؟

جسٹس عائشہ ملک نے سوال اٹھایا کہ کیا آرٹیکل 191 اے فل کورٹ تشکیل دینے پر کوئی قدغن لگاتا ہے؟ اور کیا سپریم کورٹ جوڈیشل کمیشن کو تمام ججز کو آئینی بینچ کا حصہ بنانے کا حکم نہیں دے سکتی؟

ججز کے مشاہدات

جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ اگر جوڈیشل کمیشن کوئی غیر آئینی فیصلہ کرے تو سپریم کورٹ اسے کالعدم قرار دے سکتی ہے۔

جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار برقرار رہے گا، سوال یہ ہے کہ کیا جوڈیشل کمیشن سپریم کورٹ سے بالاتر ہے؟

فل کورٹ کے قیام پر بحث

وکیل عابد زبیری نے کہا کہ فل کورٹ آئینی بینچ تشکیل دے سکتا ہے، تاہم آئینی بینچ خود فل کورٹ نہیں بنا سکتا۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ کی تعریف کے مطابق کمیٹی کے پاس فل کورٹ بنانے کا اختیار نہیں۔

عابد زبیری نے جواب دیا کہ اگر چیف جسٹس آئینی بینچ کے سربراہ ہوں تو وہ فل کورٹ تشکیل دے سکتے ہیں۔

بین الاقوامی مثالوں کا حوالہ

عابد زبیری نے جنوبی افریقہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں آئینی بینچ کی اپیل سپریم کورٹ میں ہوتی ہے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ بھارت میں چیف جسٹس کو آئینی بینچ بنانے کا اختیار حاصل ہے، مگر پاکستان میں صورتحال مختلف ہے۔

موجودہ پیشرفت

سماعت کے دوران جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اب معاملہ واضح ہے، وکیل جوڈیشل کمیشن کی مداخلت نہیں چاہتے۔

عدالت نے وکلاء کو آئندہ سماعت پر اپنے دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

26ویں ترمیم اکرم شیخ جسٹس عائشہ سپریم کورٹ عابد زبیری.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: 26ویں ترمیم اکرم شیخ سپریم کورٹ جسٹس جمال مندوخیل نے جوڈیشل کمیشن سپریم کورٹ کا اختیار نے کہا کہ کی تشکیل بنانے کا فل کورٹ کے لیے

پڑھیں:

سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی

---فائل فوٹو

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سارا انعام قتل کیس میں سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی سزا کے خلاف اپیل اور دیگر متعلقہ اپیلوں کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔ 

کیس کی سماعت جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد آصف نے کی، مجرم کی والدہ ثمینہ شاہ کی بریت کے خلاف درخواست بھی زیرِ سماعت آئی۔

سماعت کے دوران شاہنواز امیر کی جانب سے وکیل چوہدری عبدالعزیز جبکہ مقتولہ سارا انعام کے والد کی جانب سے رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔

سارا انعام قتل کیس: سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی والدہ کی بریت کیخلاف اپیل میں نوٹس جاری

جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کی۔

جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ کیا فریقین دلائل کے لیے تیار ہیں جس پر دونوں جانب کے وکلا نے آمادگی ظاہر کی، بعد ازاں وکیل چوہدری عبدالعزیز نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے ایف آئی آر کا متن پڑھا۔

وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں ایاز امیر ابتدا ہی میں کیس سے ڈسچارج ہو گئے تھے اور اس حکم کو کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا۔ 

انہوں نے بتایا کہ ثمینہ شاہ کو بھی ٹرائل کورٹ نے عدم شواہد کی بنیاد پر بری کیا تھا تاہم اس وقت ان کے وکیل عدالت میں موجود نہیں تھے۔

عدالت نے آئندہ تاریخ کے حوالے سے فریقین سے رائے طلب کی جس پر رضوان عباسی نے سماعت آئندہ ہفتے یا موسم گرما کی تعطیلات کے بعد مقرر کرنے کی استدعا کی۔ 

سارہ انعام قتل کیس، مرکزی ملزم شاہنواز امیر اور والدہ پر فرد جرم عائد

اسلام آباداسلام آباد کی مقامی عدالت نے سارہ...

بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔

واضح رہے کہ ستمبر 2022ء میں سارا انعام کو ان کے شوہر شاہنواز امیر نے قتل کر دیا تھا جبکہ ٹرائل کورٹ شاہنواز امیر کو سزائے موت سنا چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی