WE News:
2025-11-29@18:41:49 GMT

سپریم کورٹ میں 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں پر سماعت

اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT

سپریم کورٹ میں 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں پر سماعت

سپریم کورٹ میں 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت دوبارہ شروع ہوگئی۔ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں آٹھ رکنی آئینی بینچ کیس کی سماعت کر رہا ہے۔

بینچ کی تشکیل اور ارکان

آئینی بینچ میں جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم افغان اور جسٹس شاہد بلال شامل ہیں۔

وکلاء کی پیشی اور ابتدائی مکالمہ

سماعت کے آغاز پر سابق صدور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے وکیل عابد زبیری روسٹرم پر آئے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ امید ہے آج آپ اپنے دلائل مکمل کر لیں گے، جس پر عابد زبیری نے جواب دیا کہ جی، آج دلائل مکمل کر لوں گا۔

یہ بھی پڑھیں:’26 ویں آئینی ترمیم پر فل کورٹ تشکیل دینا قانونی تقاضا ہے‘

بعد ازاں وکیل اکرم شیخ نے روسٹرم سنبھالا اور عدالت سے گزارش کی کہ کارروائی کا آغاز بسم اللہ سے ہونا چاہیے تاکہ ماحول بہتر رہے۔ انہوں نے یہ بات ہلکے پھلکے انداز میں کہی۔

وکلا کے دلائل کے لیے وقت مقرر کرنے کی تجویز

اکرم شیخ نے مزید کہا کہ وکلاء کو دلائل دینے کے لیے وقت مقرر کیا جائے۔ جسٹس امین الدین نے کہا کہ وقت کی پابندی سب پر لاگو ہوگی۔

بینچز کی تشکیل پر عابد زبیری کے دلائل

عابد زبیری نے اپنے دلائل میں کہا کہ بینچز کی تشکیل پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کا اختیار ہے۔ ان کے مطابق آئینی بینچز کی تشکیل کا اختیار آئینی کمیٹی کے پاس ہوتا ہے، جو صرف آئینی بینچ کے لیے 15 ججز کو نامزد کر سکتی ہے۔

عدالتی سوالات اور مکالمے

جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ آپ چاہتے ہیں ہم آئینی بینچ میں رہتے ہوئے فل کورٹ بنانے کا حکم دے سکتے ہیں؟

جسٹس عائشہ ملک نے سوال اٹھایا کہ کیا آرٹیکل 191 اے فل کورٹ تشکیل دینے پر کوئی قدغن لگاتا ہے؟ اور کیا سپریم کورٹ جوڈیشل کمیشن کو تمام ججز کو آئینی بینچ کا حصہ بنانے کا حکم نہیں دے سکتی؟

ججز کے مشاہدات

جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ اگر جوڈیشل کمیشن کوئی غیر آئینی فیصلہ کرے تو سپریم کورٹ اسے کالعدم قرار دے سکتی ہے۔

جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار برقرار رہے گا، سوال یہ ہے کہ کیا جوڈیشل کمیشن سپریم کورٹ سے بالاتر ہے؟

فل کورٹ کے قیام پر بحث

وکیل عابد زبیری نے کہا کہ فل کورٹ آئینی بینچ تشکیل دے سکتا ہے، تاہم آئینی بینچ خود فل کورٹ نہیں بنا سکتا۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ کی تعریف کے مطابق کمیٹی کے پاس فل کورٹ بنانے کا اختیار نہیں۔

عابد زبیری نے جواب دیا کہ اگر چیف جسٹس آئینی بینچ کے سربراہ ہوں تو وہ فل کورٹ تشکیل دے سکتے ہیں۔

بین الاقوامی مثالوں کا حوالہ

عابد زبیری نے جنوبی افریقہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں آئینی بینچ کی اپیل سپریم کورٹ میں ہوتی ہے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ بھارت میں چیف جسٹس کو آئینی بینچ بنانے کا اختیار حاصل ہے، مگر پاکستان میں صورتحال مختلف ہے۔

موجودہ پیشرفت

سماعت کے دوران جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اب معاملہ واضح ہے، وکیل جوڈیشل کمیشن کی مداخلت نہیں چاہتے۔

عدالت نے وکلاء کو آئندہ سماعت پر اپنے دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

26ویں ترمیم اکرم شیخ جسٹس عائشہ سپریم کورٹ عابد زبیری.

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: 26ویں ترمیم اکرم شیخ سپریم کورٹ جسٹس جمال مندوخیل نے جوڈیشل کمیشن سپریم کورٹ کا اختیار نے کہا کہ کی تشکیل بنانے کا فل کورٹ کے لیے

پڑھیں:

آغا سراج درانی کی بیٹی کی پاکستان واپسی کی درخواست منظور، عدالت میں پیش ہونے کا حکم

سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے سابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی مرحوم کی صاحبزادی کو پاکستان واپسی کی درخواست پر ان کی 20 یوم کی حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے متعلقہ عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کردی۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس یوسف علی سعید اور جسٹس عبد المبین لاکھو پر مشتمل آئینی بینچ کے روبرو سابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی مرحوم کی صاحبزادی کی پاکستان واپسی کی درخواست کی سماعت ہوئی۔

نیب  اور سرکاری وکلاء کی جانب سے درخواست کی مخالفت کی گئی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ نہیں چاہتے کہ درخواستگزار یا مفرور ملزم پاکستان واپس آئے۔ جسٹس یوسف علی سعید نے ریمارکس دیئے کہ پاکستان آنے پر اسے احتساب عدالت میں پیش ہونا ہے، پھر عدالت جو چاہے قانون کے مطابق کارروائی کرے۔ ضمانت کیلیے آئینی بینچ سے کیوں رجوع کیا گیا، ریگولر بینچ سے کیوں نہیں۔

درخواستگزار کے وکیل عامر رضا نقوی ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ ہائیکورٹس ضابطہ فوجداری کی دفعہ 561 کے اختیارات عمومی طور پر آئین کے آرٹیکل 199 میں استعمال کرتی ہیں۔ آئینی بینچ کو بنیادی حقوق کے اختیارات کے ساتھ ساتھ ریگولر بینچ کے اختیارات بھی حاصل ہیں۔

جسٹس عبد المبین لاکھو نے ریمارکس میں کہا کہ آپ نے درخواستگزار کے ٹکٹ کی کاپی پیش نہیں کی کہ وہ کہاں سے اور کب آنا چاہتی ہیں۔ عامر رضا نقوی ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ درخواستگزار امریکہ میں ہیں، متعلقہ عدالت میں پیش ہونے کیلیے 8 سے 10 ہفتوں کی مہلت دی جائے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اتنی طویل مہلت نہیں دی جاسکتی، درخواستگزار آنا چاہتی ہیں تو کچھ تیاری کی ہوگی۔

درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ  دسمبر میں ٹکٹس مہنگے ہوتے ہیں اور سیٹیں بھی دستیاب نہیں ہوتیں۔ آئینی بینچ نے صنم درانی کی 20 یوم کی حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے متعلقہ عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کردی۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ: آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ اور ججز روسٹر جاری
  • انتخابی نظام غیر اسلامی قرار دینے کا مقدمہ سپریم کورٹ میں سماعت کیلیے مقرر
  • وفاقی آئینی عدالت نے ارشد شریف قتل کیس سماعت کیلئے مقرر کردیا
  • وفاقی آئینی عدالت: آئندہ ہفتے 3 بینچ مقدمات کی سماعت کریں گے
  • سپر ٹیکس کیس: وفاقی آئینی عدالت کا 3 رکنی بینچ پیر سے سماعت کرے گا
  • آغا سراج درانی کی بیٹی کی پاکستان واپسی کی درخواست منظور، عدالت میں پیش ہونے کا حکم
  • دہلی اور اسکے اطراف میں بدترین فضائی آلودگی، معاملہ پر غور کیلئے سپریم کورٹ میں سماعت ہوگی
  • کنٹونمنٹ بورڈز تحلیل کے خلاف آئینی پٹیشن سماعت کے لئے منظور
  • انکم ٹیکس کیس: آئینی عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کا اسٹے آرڈر کالعدم قرار دیدیا
  • انکم ٹیکس کیسز: سندھ ہائیکورٹ کا حکم کالعدم قرار