شاہ رخ خان کے گھر میں دیوالی کا جشن، تصاویر شیئر کردیں
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
بولی ووڈ کے بے تاج بادشاہ شاہ رخ خان نے اس سال اپنی روایتی دیوالی پارٹی کو چھوڑتے ہوئے خاندانی انداز میں دیوالی کا جشن منایا۔
شاہ رخ نے اپنی اہلیہ گوری خان کی دیوالی پوجا کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کر کے مداحوں کو دل سے دیوالی کی مبارکباد دی۔
شاہ رخ خان نے انسٹاگرام پر تصویر کے ساتھ کیپشن لکھا:
’ہیپی دیوالی! ماں لکشمی جی آپ سب کو خوشحالی اور خوشیاں عطا فرمائیں۔ سب کے لیے محبت، روشنی اور امن کی دعائیں۔‘
اس سال شاہ رخ خان نے اپنی رہائش منّت میں دیوالی کی مشہور پارٹی منعقد نہیں کی، جو عام طور پر بالی ووڈ کے لیے سب سے انتظار کی جانے والی تقریبات میں شامل ہوتی ہے۔ ذرائع کے مطابق، منّت میں جاری تعمیراتی کام کی وجہ سے اس سال جشن سادہ اور خاندانی انداز میں منایا گیا۔
تصویر میں گوری خان کو پوجا کرتے ہوئے پیچھے سے دکھایا گیا ہے، جہاں چھوٹی سی مورتی پس منظر میں نظر آ رہی ہے، جس نے مداحوں کے دل جیت لیے۔
مداحوں نے پوسٹ پر بھرپور ردعمل دیا اور تبصروں میں جذبات اور محبت کا اظہار کیا۔ ایک صارف نے کہا کہ، ”اگر سیکولرازم کا چہرہ ہے تو وہ ایس آر کے ہے۔ ہیپی دیوالی!“
کسی نے کہا، ”بھارت کے سب سے سیکولر اداکار!“ تو کسی کا کہنا تھا، ”ہیپی دیوالی شاہ… آپ کی دیوالی آپ کی موجودگی کی طرح روشن اور خوبصورت ہو۔“
ایک صارف نے انہیں بڑی اسکرین پر جلد دیلکھنے کی بے تابی ظاہر کرتے ہوئے کہا، ”بڑے پردے پر آپ کو دیکھنے کی کمی محسوس ہو رہی ہے۔“
کام کے محاذ پر شاہ رخ خان کو آخری بار راجکمار ہیرانی کی فلم ”ڈنکی“ میں دیکھا گیا۔ وہ اس وقت سدھارتھ آنند کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ”کنگ“ کی شوٹنگ میں مصروف ہیں، جس میں ان کے ساتھ سہانہ خان، دیپیکا پڈوکون، ابیشیک بچن اور راگھو جویال شامل ہیں۔
فلم 2026 میں ریلیز ہونے والی ہے اور بھارتی سینما کے سب سے زیادہ انتظار کی جانے والی فلموں میں شمار ہوتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: شاہ رخ خان
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔