Islam Times:
2026-06-03@04:21:41 GMT

ملت کی فکری تعمیر، تحریکی وحدت اور دینی قیادت کا شعوری سفر

اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT

ملت کی فکری تعمیر، تحریکی وحدت اور دینی قیادت کا شعوری سفر

اسلام ٹائمز: شیخ سجاد حسین مفتی صاحب کی تحریر محض تنقید نہیں بلکہ ایک فکری منشور ہے۔ یہ منشور ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم دین کے لیے سنجیدہ ہوں، قوم کے لیے متحد ہوں اور قیادت کے لیے بااخلاص ہوں۔ شیخ سجاد حسین مفتی صاحب کی یہ تحریر ایک فکری آئینہ ہے۔ جس میں ہر تنظیم، ہر رہنماء اور ہر کارکن کو اپنی صورت دیکھنی چاہیئے۔ اگر ہم نے اس آئینے سے رخ موڑ لیا تو شاید ہماری نسلیں بھی اندھیرے میں بھٹکتی رہیں۔ تبصرہ: آغا زمانی

بلتستان کی علمی و فکری فضا میں کبھی کبھار ایسی تحریریں نمودار ہوتی ہیں، جو فقط نصیحت نہیں بلکہ اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑ دینے والی دعوتِ فکر ہوتی ہیں۔ محترم شیخ سجاد حسین مفتی کی زیرِ نظر تحریر بھی انہی میں سے ایک ہے۔ یہ کسی وقتی جوش یا وقتی سیاسی بیان کی پیداوار نہیں بلکہ ایک مدبر، بصیرت مند عالم دین کے اندرونی اضطراب اور ملت کی فکری بیداری کی پکار ہے۔ یہ تحریر بظاہر مجلسِ وحدت مسلمین گلگت بلتستان کی تقریبِ حلف برداری کے تناظر میں ہے، مگر درحقیقت یہ پورے نظامِ دینی و سیاسی عمل پر ایک سنجیدہ فکری مکالمہ ہے، جسے سمجھنا اور اس پر عمل کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

1۔ قیادت اور عوام کا باہمی اعتماد
شیخ سجاد صاحب نے قیادت و عوام کے تعلق پر ایک بنیادی اصول واضح کیا ہے کہ قیادت وہی معتبر ہے، جو عوام کے احساسات و مطالبات کی نمائندہ ہو، نہ کہ ان پر فیصلہ مسلط کرے۔ یہی اصول اسلامی سیاست کا جوہر ہے۔ امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام نے بھی فرمایا: "مجھے تم پر حکومت کا شوق نہیں بلکہ میں تمہارے حق کو تم تک پہنچانے کے لیے کھڑا ہوا ہوں۔" یہ نکتہ آج کے سیاسی ماحول میں ایک صدائے حق ہے، جہاں قیادت اکثر عوام سے فاصلہ پیدا کر لیتی ہے اور فیصلے عوام کی مشاورت سے نہیں بلکہ ذاتی یا جماعتی مفاد سے جڑے ہوتے ہیں۔

2۔ مثبت سیاسی عمل کی ضرورت
شیخ سجاد حسین مفتی صاحب کے مطابق، ایم ڈبلیو ایم اور اس جیسی دینی جماعتوں کا مشن صرف احتجاج یا مزاحمت نہیں بلکہ ایک مثبت سیاسی عمل کے ذریعے دینی اقدار کی ترویج ہے۔ یہی وہ نظریہ ہے، جو انقلاب اسلامی ایران کے رہنماء امام خمینی رضوان اللہ علیہ نے پیش کیا۔ "سیاست عینِ دیانت ہے۔" بدقسمتی سے ہمارے ہاں مذہبی سیاست کو اکثر منفی معنوں میں لیا گیا ہے۔ شیخ سجاد مفتی صاحب نے بجا فرمایا کہ دین اور سیاست کی جدائی دراصل امت کی فکری موت ہے۔

3۔ خود احتسابی، ایک فکری ضرورت
تقاریر کے بعد شیخ سجاد حسین مفتی صاحب کا غور و فکر دراصل اجتماعی خود احتسابی کی طرف اشارہ ہے۔ یہ سوال کہ ہم نے بطور قوم یا ملت گذشتہ عشروں میں کیا کھویا اور کیا پایا۔؟ یہی وہ سوال ہے، جس سے زندہ قومیں اپنے راستے درست کرتی ہیں۔ بندہ حقیر کے نزدیک یہ خود احتسابی ہی وہ آئینہ ہے، جس میں ملت اپنی کمزوریاں دیکھ کر اصلاح کا آغاز کرسکتی ہے۔

4۔ اسلامی فکر و عمل کے امتیازات
شیخ سجاد مفتی صاحب نے دینِ محمدی (ص) کے وہ بنیادی اصول گنوائے ہیں، جو ہمیں عدل، وحدت اور بندگی کی راہ پر قائم رکھتے ہیں۔ یہ وہ اقدار ہیں، جو کسی بھی تحریک یا جماعت کو نظریاتی انحراف سے بچاتی ہیں۔ بدقسمتی سے ہماری دینی و سیاسی تحریکوں نے اکثر ان اصولوں کو نعروں میں محدود کر دیا ہے۔ عملی میدان میں تفرقہ، مفاد پرستی اور انا پرستی نے اجتماعی طاقت کو زنگ آلود کر دیا ہے۔

5۔ تلخ حقیقت، فکری زوال کا اعتراف
شیخ سجاد صاحب نے قوم کے فکری زوال پر جس سچائی سے پردہ اٹھایا ہے، وہ ان کی درد مندی کی علامت ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ ہم نے خالص دینی تشخص کو چھوڑ کر مغربی جمہوریت کے سکیولر دھارے میں پناہ لینے کی کوشش کی ہے۔ یہ وہ نکتہ ہے، جو ہمارے بیشتر مذہبی و سیاسی دھڑوں کی فکری الجھن کو عیاں کرتا ہے۔ راقم کے نزدیک یہ تسلیم کرنا کہ ہم دینی حکمتِ عملی سے محروم ہیں، احیاءِ فکر کی پہلی شرط ہے۔

6۔ افرادی قوت کی تیاری، انقلاب کا تقاضا
شیخ صاحب نے نہایت منطقی انداز میں اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ اگر آج ہمیں اقتدار یا اختیار دیا جائے تو کیا ہمارے پاس اتنے نظریاتی، تربیت یافتہ اور اہل افراد موجود ہیں، جو نظامِ اسلامی کو چلانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔؟ یہ سوال فقط تنظیمی نہیں بلکہ ملی سطح کا بحران ہے۔ آج امت کے پاس خطیب بہت ہیں، مگر مدبر کم۔ مقرر بہت ہیں، مگر منتظم کم۔ ایران کی مثال دے کر شیخ صاحب نے یہ واضح کیا کہ انقلاب صرف نعرے سے نہیں بلکہ تیار شدہ فکری فوج سے برپا رہتا ہے۔

7۔ نظریاتی ماڈل کی تلاش
پاکستانی شیعہ معاشرے کے لیے موزوں سیاسی و سماجی ماڈل کی تلاش پر شیخ سجاد مفتی صاحب کی گفتگو نہایت بصیرت افروز ہے۔ انہوں نے چند ممکنہ ماڈلز۔ ایران، لبنان، افغانستان وغیرہ۔ کا ذکر کرکے ایک اہم فکری سوال اٹھایا ہے: کیا ہم نے اپنے سماجی و سیاسی وجود کے لیے کوئی واضح نظریاتی خاکہ متعین کیا ہے۔؟ راقم کے نزدیک یہ بحث مستقبل کی سیاست کی سمت طے کرسکتی ہے، بشرطِ صداقت و اخلاص۔

8۔ تنظیمی روش اور باہمی تعاون
شیخ صاحب نے شخصیت پرستی، تنظیمی تکبر اور محدود اطاعت کے خلاف جو موقف پیش کیا ہے، وہ روحِ توحید کی تفسیر ہے۔ قرآن کہتا ہے: "وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى"، نیکی میں تعاون کرو، دشمنی میں نہیں۔ بدقسمتی سے ہم نے "اپنوں" سے مقابلہ اور "غیروں" سے نرمی کی روش اپنا لی ہے۔ یہ وہ داخلی کمزوری ہے، جو ملت کو انتشار میں مبتلا کرتی ہے۔


9۔ شورائی نظام کی تجویز اتحاد کی عملی صورت
آخر میں محترم شیخ سجاد حسین مفتی نے ایک نہایت عملی تجویز پیش کی ہے کہ ہر علاقے میں امامِ جمعہ کی سرپرستی میں ایک مشاورتی کونسل تشکیل دی جائے، جس کے سامنے تمام تنظیمیں جواب دہ ہوں۔ یہ تجویز دراصل وحدتِ اجتماعی اور نظمِ دینی قیادت کی بنیاد رکھتی ہے۔ اگر اس اصول کو خلوص سے اپنایا جائے تو بلتستان بلکہ پورے پاکستان میں انتشار کی جگہ نظم اور ذاتی مفادات کی جگہ ملت کی فکر جنم لے سکتی ہے۔

دعا اور دعوتِ عمل
شیخ سجاد حسین مفتی صاحب کی تحریر محض تنقید نہیں بلکہ ایک فکری منشور ہے۔ یہ منشور ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم دین کے لیے سنجیدہ ہوں، قوم کے لیے متحد ہوں اور قیادت کے لیے بااخلاص ہوں۔ شیخ سجاد حسین مفتی صاحب کی یہ تحریر ایک فکری آئینہ ہے۔ جس میں ہر تنظیم، ہر رہنماء اور ہر کارکن کو اپنی صورت دیکھنی چاہیئے۔ اگر ہم نے اس آئینے سے رخ موڑ لیا تو شاید ہماری نسلیں بھی اندھیرے میں بھٹکتی رہیں۔

آخری گزارش
شیخ سجاد حسین مفتی کا یہ فکری پیغام دراصل ایک نئی فکری و تنظیمی بیداری کی بنیاد رکھتا ہے۔ اس پیغام کی روشنی میں اگر ہر خطیب، ہر کارکن، ہر رہنماء اپنے کردار کا محاسبہ کرے تو بلتستان کا سیاسی و دینی مستقبل یقیناً روشن ہوسکتا ہے۔ ان شاء اللہ

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: شیخ سجاد حسین مفتی صاحب کی نہیں بلکہ ایک ایک فکری کی فکری کے لیے کی فکر

پڑھیں:

کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟

مراد راس صاحب سابق صوبائی وزیر ہیں، لاہور سے 2 بار رکن اسمبلی رہے۔ پہلے تحریک انصاف سے تعلق تھا، انہی کے دور میں صوبائی وزارت ملی۔ اب تحریک استحکام پاکستان میں شامل ہیں۔ ان کے بارے میں عمومی تاثر یہی تھا کہ پڑھے لکھے آدمی ہیں، نام کےساتھ ڈاکٹر بھی لگتا ہے، معلوم نہیں ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں یا پی ایچ ڈی۔

بہرحال ان کے حالیہ ٹوئٹ نے ہر ایک کو حیران کر دیا۔ موصوف نے ٹوئٹ کیا، ‘لاہور ان عید کی چھٹیوں میں بہت پرسکون تھا، خاص کر ٹریفک بہت کم تھی۔ یہ آؤٹ سائیڈرز ہیں جنہوں نےلاہور تباہ کیا ہے‘۔

بات سادہ ہے مگر غلط ہے، بلکہ بہت غلط ہے۔ نرم سے نرم الفاظ میں اس  ٹوئٹ کو غیر ذمہ دارانہ، افسوسناک اور تکلیف دہ کہا جا سکتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے یہ ٹوئٹ کرنے والا شخص پڑھا لکھا نہیں، اسےدنیا کا قطعی علم نہیں، کسی بھی بڑے بین الاقوامی شہر کا تو شاید اس نے نام بھی نہیں سنا۔ سب سےبڑھ کر یہ کہ اسے لاہور کی ہسٹری کا بھی کچھ نہیں پتا۔

یہ بھی پڑھیں: بڑے شہر نگل جاتے ہیں

خاکسار معروف معنوں میں لاہوری نہیں، آبائی شہر احمدپورشرقیہ، ضلع بہاولپور ہے۔ تاہم میں 31،32 برسوں سے لاہور میں مقیم ہوں، میرے بچے یہیں پیدا ہوئے، یہیں پر پلے بڑھے ہیں، الحمدللہ۔ میں کوئی 10، 12 برسوں سےہر عید لاہور ہی میں کرتا ہوں۔ اپنے آپ کو لاہوری تصور کرتا ہوں، اس لیے کہ اس شہر نے مجھے بے پناہ محبت، عزت دی۔ جو تھوڑی بہت پہچان ہے، وہ بھی اسی شہر کی مرہون منت ہے۔ لاہور کی سب سے خوبصورت بات یہاں کے مکین یعنی لاہوری ہیں۔ جتنی اوپن نیس، کشادگی اور کھلا ڈلا پن میں نے لاہوریوں میں دیکھا، اس کی مثالیں کم ملتی ہیں۔ باہر سے آنے والوں کو یہ باہیں پھیلا کر قبول کرتے اور اپنے دل میں سمو لیتےہیں۔

ایسے میں بہت افسوسناک امر ہے کہ ڈاکٹر مراد راس جیسے لوگ جو گجرات میں پیدا ہونے کی وجہ سے گجراتی شناخت بھی رکھتے ہیں، پرانےلاہوریے نہیں ، اپنے ایک نفرت انگیز ، متعصبانہ ٹوئٹ کی وجہ سے پورے لاہور شہر کے مکینوں کی بدنامی کا باعث بنے ہیں۔ مراد راس کا یہ ٹوئٹ لاہور اور لاہوریوں کی ترجمانی نہیں کرتا۔

مزید پڑھیے: نریندر مودی صحافیوں سے کیوں خوفزدہ ہیں؟

چلیں بات شروع ہوئی ہے تو ویسے ہی اس کا بھی جائزہ لے لیتے ہیں کہ لاہور کو وہ لاہور بنایا کس نے ہے جس پر اس کی دنیا بھر میں دھوم ہے۔ سب سےبڑا سہرا تو مغلوں کے سر جاتا ہے جو سمرقند اور کابل سے آئے تھے۔ مقبرہ جہانگیر، کامران کی بارہ دری، شالیمار باغ، مسجد وزیر خان وغیرہ کس نے بنائے؟باہر سے آنے والے مغلوں نے ۔انارکلی بازار کا نام کس کے نام پر ہے؟ ایک ایسی لڑکی کے نام پر جو اس شہر کی اصل باشندہ بھی نہیں تھی۔ لاہور کا مال روڈ، جی پی او، ہائی کورٹ، شہر کا سب سے حسین سرسبز علاقہ ماڈل ٹاؤن، یہ سب ’باہر والوں‘ نے بنائے۔ یہ سب باہر سے آئے اوراس شہر کو اپنے خون پسینے سے تعمیر کر گئے۔ لاہور کے کھانوں، کلچر میں بہت بڑا حصہ کشمیریوں کا ہے۔ یہ کشمیر سے لاہور اور امرتسر میں آ کر آباد ہوئے۔ تقسیم کے بعد امرتسری(امبرسری) کشمیری  مسلمان بھی لاہور آ گئے اور آج امبرسریوں کےکھابے ملک بھر میں مشہور ہیں۔

اب ذرا دنیا کو دیکھیں۔

یورپ کے سب سے اہم شہر لندن کا میئر آج صادق خان ہے، پاکستانی نژاد، جنوبی لندن کے ایک بس ڈرائیور کا بیٹا۔ لندن والے اس پر فخر کرتے ہیں کیونکہ ان کا شہر ہمیشہ سے باہر سے آنے والوں کا گھر رہا ہے۔ رومن آئے، نارمن آئے، فرانسیسی آئے، یہودی آئے، ہندوستانی آئے، پاکستانی آئے، ہر آنے والے نے اس شہر میں کچھ جوڑا۔ اگر لندن نے کسی موڑ پر یہ سوچ لیا ہوتا کہ ’باہر والوں نے ہمیں خراب کر دیا‘ تو آج وہ ایک گمنام صوبائی قصبہ ہوتا، دنیا کا مالیاتی مرکز نہیں۔

نیویارک کو دنیا سٹی آف امیگرنٹس کہتی ہے۔ اب تو اس کا میئر ظہران ممدانی بھی ایک امیگرنٹ ہی ہے۔ وہاں ایلس آئی لینڈ پر ایک میوزیم ہے جو ان لاکھوں تارکین وطن کو خراج تحسین پیش کرتا ہے جو یورپ، ایشیا، افریقہ سے جہاز پر سوار ہو کر آئے اور امریکا کو امریکا بنایا۔ انہیں شرمندگی نہیں دلائی گئی، ان کی قربانی کو سنہری حروف میں لکھا گیا۔ نیویارک کی وہ عمارتیں جنہیں آج دنیا دیکھتی ہے، ان کی ایک ایک اینٹ کے پیچھے کسی ’باہر والے‘ کا پسینہ ہے۔

دبئی کی مثال اور بھی چونکا دینے والی ہے۔ وہاں اصل اماراتی شہری آبادی کا صرف 10 سے 15 فیصد ہیں۔ 85 سے 90 فیصد لوگ ’باہر والے‘ ہیں، پاکستانی، ہندوستانی، فلپینی، بنگلہ دیشی، یورپی۔ دبئی نے انہیں دھتکارا نہیں، خوش آمدید کہا۔ نتیجہ سامنے ہے، ریت کے ایک ٹیلے پر کھڑا ہونے والا شہر آج دنیا کا سب سے چمکدار شہر ہے۔ اگر عرب امارات کے بادشاہوں  نے بھی یہ سوچا ہوتا کہ باہر والے ہمیں خراب کریں گے تو دبئی آج وہ ترقی یافتہ دبئی نہ ہوتا۔

واپس لاہور آتے ہیں۔

آج لاہور میں جو کاروبار ہے، جو محنت ہے، جو تعمیر ہے، اس میں گوجرانوالہ،  گجرات، سیالکوٹ، فیصل آباد، ملتان، بہاولپور، جھنگ، ڈیرہ غازی خان سے آنے والوں کا حصہ اتنا ہی ہے جتنا کسی نسل در نسل لاہوری کا۔ وہ مزدور جو ڈیفنس کی کوٹھیاں بناتا ہے، وہ ریڑھی والا جو گلبرگ کو پھل فروخت کرتا ہے، وہ درزی جو اقبال ٹاؤن، ٹاؤن شپ میں سلائی کرتا ہے، یہ سب ’باہر والے‘ ہیں۔ انہیں نکال دیں تو لاہور کی رونق ایک دن میں ختم ہو جائے۔

ایک بات اور۔ لاہور کا ٹریفک اور آلودگی عید پر اس لیے کم ہوئی کہ ’باہر والے‘ اپنے گھروں کو گئے۔ یعنی اصل مسئلہ آنے والوں کا نہیں، شہر کی ناقص منصوبہ بندی کا ہے۔ وہ منصوبہ بندی جو انہی ’اندر والے‘ حکمرانوں کی دین ہے جو دہائیوں سے لاہور پر راج کرتے آئے ہیں۔

آخری بات، مراد راس صاحب خود گجرات میں پیدا ہوئے، تعلیم امریکا میں حاصل کی، ان کی امریکی شہریت کی بات بھی چلتی رہی ہے۔ لاہور کی نشست سے سیاست کی۔ تو پھر وہ ’اندر والے‘ کیسے اور گجرات سے آنے والا مزدور ’باہر والا‘ کیسے؟

مزید پڑھیں: کامیابی کی سب سے بڑی غلط فہمی

شہر اینٹوں سے نہیں، لوگوں سے بنتے ہیں۔ اور لوگ ہر طرف سے آتے ہیں۔ یہی کسی شہر کی اصل دولت ہے۔ درحقیقت اہل دانش کہتےہیں کہ ترقی ہی وہ گلو یا گوند ہے جو باہر سےلوگوں کو، سرمایے کو اور اہل ہنر کو کھینچتی ہے۔ ترقی دراصل وہ گریوٹی ہے جو اپنی کشش اور قوت سے باہروالوں کو اندر لاتی ہے اور ان کی وجہ سے وہ شہر جگمگاتا ہے۔ جس شہر میں باہر سے لوگ جانا بند کر جائیں، وہ کسی کمھلائے ہوئے پھول کی طرح ہوجاتا ہے۔ پھر اسے زوال سے کوئی نہیں روک سکتا۔ کاش مراد راس جیسے لوگ قوت بینا رکھتے، دل کی آنکھیں ہی کھول کر جینا سیکھ لیتے۔ تب ایسی دل آزاری والے ٹوئٹ ہرگز نہ لکھے جاتے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

آؤٹ سائیڈرز احمد پور شرقیہ لاہور لاہور کس نے بنایا لاہور کے اندر والے باہر والے لندن کا میئر مراد راس نیویارک کا میئر

متعلقہ مضامین

  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا