سندھ میں پولیو کے کیسز کا سامنے آنا افسوسناک ہے، عزیز میمن
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
میرپورخاص(نمائندہ جسارت ) ملک سمیت سندھ بھر میں پولیو کے کیسز کا سامنے آنا افسوسناک عمل ہے، لوگوں کو صاف پانی کی فراہمی کیلئے شہر میں واٹر فلٹر پلانٹ قائم کئے جا رہے ہیں ان خیالات کا اظہار روٹری پولیو پلس کمیٹی پاکستان کے چیئر مین عزیز میمن نے پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ڈویڑنل کمشنر فیصل احمد عقیلی، چوہدری مسعود، نعمان قائم خانی، فہد سکندر اور دیگر روٹیرینز بھی موجود تھے عزیز میمن نے مزید کہا کہ پوری دنیا سے پولیو کا خاتمہ ہو چکا ہے پاکستان سے پولیو کا خاتمہ کرنا ہے جس کے لئے صحافی برادری کا تعاون ضروری ہے ان کا مزید کہنا تھا کہ پولیو کے خاتمے سے پولیو پر خرچ ہونے والی رقم کو دیگر بیماریوں مثلاً خسرہ، روبیلا و دیگر پر خرچ کیا جا سکتا ہے اور ملک سے بیماریوں کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے جس سے صحت مند معاشرے کا قیام عمل میں آئے گا انہوں نے کہا کہ میرپورخاص میں سیلانی فاؤنڈیشن کے تعاون سے 02 فلٹر پلانٹس قائم کئے جا رہے ہیں روٹری مختلف سماجی کاموں میں پیش پیش ہے حالیہ سیلاب اور شدید بارشوں کی وجہ سے 150 بے گھر خاندانوں کو اسمارٹ ولیج پروجیکٹ کے تحت مکانات فراہم کئے گئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔