آرٹیکل 370 کی منسوخی سے کشمیر کی معیشت تباہ، روزگار کے مواقع محدود
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
آرٹیکل 370 کی منسوخی سے کشمیر کی معیشت تباہ، روزگار کے مواقع محدود WhatsAppFacebookTwitter 0 27 October, 2025 سب نیوز
مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی ریاستی جبر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ سات دہائیوں سے جاری ہے، کشمیری عوام آج بھی آزادی اور حقِ خودارادیت کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔
1947 کے اکتوبر میں بھارت نے کشمیری عوام کی مرضی کے برعکس اور آزادی ایکٹ کی مکمل خلاف ورزی کرتے ہوئے جموں و کشمیر پر زبردستی قبضہ کر لیا، اس غاصبانہ اقدام کو بعد ازاں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کیا گیا جہاں اب تک مسئلہ کشمیر پر 5 قراردادیں منظور کی جا چکی ہیں تاہم ان میں سے کسی پر بھی عملدرآمد نہیں ہو سکا۔
5 اگست 2019 کو مودی سرکار نے آرٹیکل 370 منسوخ کر کے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی، تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام بی جے پی کی مسلم اکثریت والے علاقے میں ہندو آبادی بسانے کی پالیسی کا حصہ تھا۔
اس کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر کی معیشت تباہ ہوئی، روزگار کے مواقع محدود ہوئے اور بے روزگاری کی شرح خطرناک حد تک بڑھ گئی، بھارت نے وادی میں 9 لاکھ سے زائد فوجی تعینات کر رکھے ہیں اور 2019 سے اب تک انٹرنیٹ کی طویل ترین بندش بدستور جاری ہے۔
حریت رہنماؤں نے عالمی برادری سے ایک بار پھر توجہ دینے کی اپیل کی ہے، الطاف حسین وانی نے کہا ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے 5 سال تک آرٹیکل 370 کیس نہیں سنا جو انصاف کے منافی ہے، سید علی گیلانی (مرحوم) کے مطابق جموں و کشمیر بھارت کا حصہ نہیں، عوام کو حقِ خودارادیت دیا جانا چاہیے۔
میر واعظ عمر فاروق کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں نہ کوئی جمہوریت ہے نہ قانون کی حکمرانی، بھارتی فوج عام عوام کے خلاف تعینات ہے، مشعال حسین ملک بولیں کہ بھارت کشمیریوں کے جذبۂ حریت کو ختم کرنے میں ناکام رہا ہے، اقوام متحدہ کو فوری طور پر قرارداد پیش کر کے آبادی کی تبدیلی روکنی چاہیے۔
کشمیری عوام کا کہنا ہے کہ ان کا عزم اور استقلال اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اب بھی بھارتی تسلط کو مسترد کرتے ہیں اور اپنی آزادی کی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرکشمیر سب سے زیادہ ملٹری قبضہ زدہ خطہ، مزید نظر انداز نہ کیا جائے: مشعال ملک غزہ فورس میں کن ممالک کی فوج شامل ہوگی؟ نیتن یاہو نے بڑا اعلان کر دیا معرکہ حق میں شکست کے بعد بھارت کی پاکستان کیخلاف ایک اور مذموم سازش ناکام مقبوضہ جموں و کشمیر کا مسئلہ حل کئے بغیر جنوبی ایشیا میں امن ممکن نہیں: صدر و وزیراعظم جموں و کشمیر پر بھارتی قبضے کے 77سال، پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج یومِ سیاہ منایا جا رہا ہے لاہور میں فضائی آلودگی برقرار، شہر میں اسموگ کے باعث اسکولوں کے اوقات کار تبدیل نظام انصاف میں شفافیت، رسائی اورکارکردگی اولین ترجیح ہے،چیف جسٹسCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: آرٹیکل 370 کشمیر کی
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔