آزاد کشمیر میں سیاسی ہلچل، وزیراعظم چوہدری انوار الحق کے مستعفی ہونے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مظفر آباد: آزاد کشمیر میں سیاسی منظر نامہ تیزی سے بدلنے لگا ہے، وزیراعظم چوہدری انوار الحق نے عندیہ دیا ہے کہ اگر کسی جماعت کے پاس مطلوبہ اکثریت موجود ہے تو وہ تحریکِ عدم اعتماد پیش کرے، میں اپنے اختیارات کے دائرے میں رہتے ہوئے فرائض انجام دیتا رہوں گا۔
صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں چوہدری انوار الحق کا کہنا تھا کہ عدم اعتماد جمہوریت کا حسن ہے، اگر کسی کے پاس نمبر گیم پوری ہے تو وہ آگے آئے، میں وہ واحد وزیراعظم ہوں جس نے خزانہ بھرا، خالی نہیں کیا، میری قدر بعد میں جانی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ جس گھر میں جنم لیا، اپنی خاطر اس کو آگ نہیں لگاسکتا، میرے چہرے پر کوئی ندامت نہیں ہوگی، وزیراعظم نے جلد ایک تفصیلی پریس کانفرنس کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق وزیراعظم آزاد کشمیر کے مستعفی ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے جو آج رات یا کل تک اپنا استعفیٰ صدر آزاد کشمیر کو بھجوا سکتے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے ایوان میں اکثریت حاصل کرنے کا دعویٰ کر دیا ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) نے بھی اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کابینہ کے متعدد وزرا نے نئے قائدِ ایوان کے حق میں ووٹ دینے کا عندیہ دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم آزاد کشمیر کے پاس اسمبلی تحلیل کرنے کا آئینی اختیار بھی موجود ہے۔ اگر وہ استعفیٰ دیتے ہیں تو صدر آزاد کشمیر 14 دن کے اندر نئے قائدِ ایوان کے انتخاب کے لیے اجلاس بلانے کے پابند ہوں گے۔
ریاستی آئین کے مطابق تحریکِ عدم اعتماد اسمبلی کے 25 فیصد اراکین کی دستخط شدہ قرارداد کے ذریعے جمع کرائی جا سکتی ہے اور قرارداد جمع کرانے والے آئندہ وزیراعظم کا نام پیش کرنے کے بھی پابند ہوں گے، اگر یہ تحریک ناکام ہوجائے تو آئندہ 6 ماہ تک دوبارہ تحریک عدم اعتماد نہیں لائی جا سکے گی۔
ذرائع کے مطابق اگر وزیراعظم نے اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا اور صدر نے اس کی منظوری نہ دی تو اسمبلی 48 گھنٹوں میں خود بخود تحلیل ہو جائے گی، جس کے بعد 90 دن کے اندر عام انتخابات کا انعقاد لازمی ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
اگلےسال نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشن(crypto transactions) پر کیپیٹل گین ٹیکس لگانےکی تجویز سامنے آئی ہے،ذرائع کےمطابق کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 سے 30 فیصد تک کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان ہے۔
آئی ایم ایف کی مشاورت سےکرپٹوسیکٹرکو ٹیکس نیٹ میں لانےکی تیاری کی جارہی ہے، اس اقدام کا مقصدکرپٹو سیکٹرکو ٹیکس نیٹ میں لانا اورڈیجیٹل معیشت سےحاصل ہونے والے منافع کو ریگولیٹ کرنا ہے،آئی ایم ایف نے تمام ڈیجٹل کاروبار سے منافع پر ٹیکس عائد کا مطالبہ کیا تھا۔
مجوزہ پلان کےتحت انکم ٹیکس آرڈیننس کےسیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سےمتعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کی جائے گی،کرپٹو ٹریڈنگ سےحاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کےدائرے میں آسکتا ہے۔
ذرائع کاکہنا ہےکہ ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی نےبھی کرپٹو صارفین پرٹیکس اور ریگولیٹری اقدامات کی تجاویزدی ہیں،جبکہ صارفین کی تعداد،ٹرانزیکشنزاورٹیکس میکانزم کےلیےایک خصوصی کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔
ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی نےکرپٹوصارفین پر ٹیکس اقدامات تجویزکیے،کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزکشنز اور ٹیکس میکنزم کیلئے کمیٹی بھی قائم کی گئی۔
مزید پڑھیں:27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
ورچوئل اثاثوں کو لیگل قراردےکرڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانےکافیصلہ کیاگیا، روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کرکےورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن ہوگی،پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج ہوسکے گی۔