فلائٹ میں دیا جانے والا کتنا خطرناک ہوتا ہے؟ کیبن کریو ممبر نے حیران کن انکشافات کردیے
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
بھارت سے تعلق رکھنے والی ایک ایئر لائن کی کیبن کریو ممبر نے انکشاف کیا ہے کہ وہ دورانِ پرواز مسافروں کو پیش کیا جانے والا کھانا خود نہیں کھاتے، بلکہ اپنے لیے علیحدہ طور پر گھر یا ریسٹورنٹ سے کھانا لے کر آتے ہیں۔
خاتون کریو ممبر کے مطابق فلائٹ کا کھانا صحت کے لیے موزوں نہیں ہوتا کیونکہ اس میں سوڈیم کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جہاز میں فراہم کیا جانے والا کھانا پرواز سے 24 سے 48 گھنٹے پہلے تیار کیا جاتا ہے۔ کھانا پہلے پکایا جاتا ہے، پھر ٹھنڈا کر کے فریز کیا جاتا ہے، بعد ازاں فلائٹ میں لوڈ کر کے ریفریجریٹر میں رکھا جاتا ہے اور مسافروں کو پیش کرنے سے قبل اسے اوون میں دوبارہ گرم کیا جاتا ہے۔
کریو ممبر نے مزید بتایا کہ اگر کوئی مسافر کہے کہ وہ اپنا کھانا کچھ گھنٹے بعد کھائے گا تو گرم شدہ کھانا دوبارہ استعمال کے قابل نہیں رہتا اور اسے پھینکنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق اس کھانے کو دوبارہ گرم بھی نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس صورت وہ خراب ہو جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے زیادہ تر کیبن کریو ممبرز دورانِ پرواز فلائٹ کا کھانا کھانے سے گریز کرتے ہیں اور اپنے ساتھ گھر کا تازہ پکایا ہوا یا باہر سے منگوایا ہوا کھانا لے جاتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
فضائی سفر فلائٹ میں کھانا کیبن کریو کیبن کریو کو دی جانے والی سہولیات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: فلائٹ میں کھانا کیبن کریو
پڑھیں:
جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) ملتان زون نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام بنادی۔
ایف آئی اے ملتان زون کے مطابق 2 خواتین کو آف لوڈ کرکے 2 ایجنٹوں کو گرفتار کرلیا۔ مسافروں نے جعلی نکاح نامے پر سوازی لینڈ کے وزٹ ویزے حاصل کیے تھے۔
ایف آئی اے کے مطابق گرفتار ایجنٹ نے مسافروں کی غیرقانونی امیگریشن کیلیے رشوت دینے کی کوشش بھی کی۔