امریکی میگزین نے بھارت کی بیرون ملک سکھ رہنماؤں کو نشانہ بنانے کی سازش بے نقاب کر دی
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
نیویارک: امریکی میگزین نیویارکر نے اپنی تازہ رپورٹ میں بھارتی حکومت کی جانب سے بیرون ملک مقیم سکھ علیحدگی پسند رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے لیے بنائے گئے خفیہ منصوبے کو بے نقاب کر دیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر نے اپنی ہلاکت سے ایک رات قبل کینیڈا میں اپنے ہم وطن گرپتونت سنگھ پنن کو بھارت سے درپیش خطرات سے آگاہ کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق 18 جون 2023 کو وینکوور کے ایک گوردوارے کے باہر دو مسلح افراد نے نجر پر 50 گولیاں چلائیں، جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہو گئے۔ کینیڈا کے حکام پہلے ہی نجر کو بھارتی خطرات سے مطلع کر چکے تھے۔
امریکی اور کینیڈین انٹیلی جنس ایجنسیوں کا شبہ ہے کہ یہ قتل ریاستی سرپرستی میں کیا گیا، جبکہ قتل کے چند دن بعد وزیراعظم نریندر مودی کو وائٹ ہاؤس میں اعزاز کے ساتھ پذیرائی ملی۔
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق بھارتی انٹیلیجنس کے ایک اہلکار کی ہدایت پر نکیل گپتا نے امریکی شہری گرپتونت سنگھ پنن کے قتل کی سازش رچائی۔ گپتا نے ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن کے ایک خفیہ اہلکار کو ادائیگی بھی کی، جس میں نقد رقم کی ترسیل، ہتھیاروں کی پیشکش، منشیات کے سودے اور نجر کی لاش کی 7 سیکنڈ کی ویڈیو شامل تھی۔ رپورٹ میں گپتا کے ہینڈلر کو وکاش یادیو بتایا گیا، جو بھارتی انٹیلیجنس ایجنسی را کے سابق افسر ہیں، تاہم امریکی دباؤ کے بعد بھارت نے 2024 میں یادیو سے تعلقات منقطع کرنے پر اتفاق کیا۔
نیویارکر کے مطابق بھارت کی یہ کارروائی سکھ علیحدگی پسند تحریک کے تاریخی تناؤ اور 1984 کے آپریشن بلیو اسٹار، فسادات اور اجتماعی گمشدگیوں کے پس منظر میں دیکھنی چاہیے۔ بیرون ملک مقیم سکھ اب گوردواروں میں جانے یا احتجاج کرنے سے خوفزدہ ہیں، اور ان کے بھارت میں مقیم خاندانوں کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ کینیڈا کے سابق وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے عوامی سطح پر بھارت پر نجر کے قتل کا الزام عائد کیا، جس کے جواب میں بھارت نے کینیڈا کے شہریوں کے ویزے معطل کر دیے اور اپنے سفارت کاروں کو واپس بلا لیا۔ ان اقدامات نے دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی پیدا کر دی ہے اور مغربی حکومتوں کو بھارت کے بین الاقوامی آپریشنز کے حوالے سے فکر مند کر دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل رپورٹ میں
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔