سکھر،صوبائی وزیربرائے یونیورسٹیز وبورڈز کے اعزاز میں تقریب
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سکھر (نمائندہ جسارت )سکھر ہاؤس میں صوبائی وزیر برائے یونیورسٹیز و بورڈز محمد اسماعیل راہو کے اعزاز میں شاندار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں تعلیمی معیار کی بہتری، یونیورسٹیوں میں اصلاحات اور جدید سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے جامع گفتگو کی گئی۔ تقریب کی میزبانی پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی نعمان اسلام شیخ نے کی، جنہوں نے صوبائی وزیر کا سندھ کی روایت کے مطابق پرتپاک استقبال کیا۔تقریب میں معزز مہمانوں میں رکن سندھ اسمبلی محمد عارف خان مہر، پیپلز پارٹی ضلع سکھر کے جنرل سیکرٹری محمد ویرم خان مہر، سیکرٹری یونیورسٹیز و بورڈز عباس چانڈیو، سابق وائس چانسلر شیخ ایاز یونیورسٹی، ٹاؤن چیئرمین جیے شاہ عزیزاللہ مغل، طارق چوہان، مرتضیٰ گھانگھرو، شفیق احمد پیرزادہ، حاجی عبدالخالق سولنگی سمیت دیگر اہم شخصیات شریک تھیں۔ صوبائی وزیر محمد اسماعیل راہو نے اپنے خطاب میں کہا کہ سندھ حکومت تعلیم کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا ہماری ترجیح ہے کہ طلبہ کو معیاری تعلیم فراہم کی جائے اور یونیورسٹیوں میں تحقیق کے کلچر کو فروغ دیا جائے۔ تعلیم قوم کی ترقی کی بنیاد ہے، ہم چاہتے ہیں کہ سندھ کے نوجوان جدید علم، مہارت اور تحقیق کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں تاکہ مستقبل میں ملک کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کی یونیورسٹیوں میں تدریسی ماحول کو بہتر بنانے، جدید لیبارٹریز، ریسرچ سینٹرز اور طلبہ کیلیے سہولیات میں اضافہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، اور اس حوالے سے متعدد اقدامات نافذ کیے جا چکے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔