موسمیاتی تبدیلی سے خطرات بڑھ رہے ہیں‘وزیر خزانہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251212-01-24
ریاض (صباح نیوز) وفاقی وزیرخزانہ و محصولات سینیٹرمحمداورنگزیب نے کہاہے کہ پاکستان امریکا اور چین دونوں کے ساتھ تعمیری تعلقات برقرار رکھنے کی بہترین پوزیشن میں ہے جس سے مستحکم ماحول اور متنوع بیرونی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوں گے، موافقتی ایجنڈے کے لیے ترقیاتی شراکت داروں اور عالمی مالیاتی منڈیوں سے بیرونی مالیاتی معاونت ناگزیر رہے گی، چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ کی صورت میں پاکستان کا دیرینہ شراکت دار ہے۔ وزیرخزانہ نے ان خیالات کااظہارسعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں جمعرات کو گلوبل ڈویلپمنٹ فنانس کانفرنس مومینٹم 2025 کے موقع پر ’’موسمیاتی موافقیت ولچک، درکار سرمایہ کیسے یقینی بنائیں‘‘کے عنوان سے منعقدہ اعلیٰ سطح کے سیشن میں پاکستان میں موسمیاتی تبدیلوں کے خطرات اور اس حوالے سے مستقبل بین مالی حکمت عملی پرگفتگو کے دوران کہی۔ یہ سیشن عالمی مالیاتی رہنمائوں کی موجودگی میں ہوا جن میں اردن کی وزیر برائے منصوبہ بندی و بین الاقوامی تعاون زینہ توکان، تاجکستان کے وزیر خزانہ قہورزادہ فیض الدین اور مغربی افریقی ترقیاتی بینک کے صدر سرگے ایکوئی تھے۔ سیشن میں ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے موسمیاتی موافقت کے بڑھتے ہوئے چیلنجز پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ پاکستان میں حالیہ شدید موسمیاتی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے لیے بڑھتی ہوئی حقیقت ہے جس سے مالی اورانسانی نقصانات کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
وزیر اعلیٰ نے انہیں وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف سے ہونے والی ملاقات اور گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کے حوالے سے اسمبلی قرارداد سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ امجد حسین ایڈووکیٹ نے زرداری ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات کی اور انہیں وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف سے ہونے والی ملاقات اور گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کے حوالے سے اسمبلی قرارداد سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا۔ پارٹی ذرائع کے مطابق ملاقات میں جی بی میں حکومت سازی، خطے کے مسائل اور پارٹی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔