موٹروے ایم۔5 سی پیک سے چوری شدہ لاکھوں روپے کا سامان برآمد
اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251215-08-11
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) موٹروے پولیس اور سندھ پولیس کے مشترکہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کر کے موٹروے ایم۔5 سی پیک سے چوری شدہ لاکھوں روپے مالیت کا سرکاری سامان برآمد کر لیا۔ ترجمان موٹر وے سید عمران احمد کے مطابق روہڑی انٹرچینج کے قریب قائم ایک کباڑ خانے پر کامیاب چھاپہ مارا گیا، جہاں سے قومی اثاثہ بازیاب کیا گیا۔ ڈپٹی ڈائریکٹر نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے مطابق برآمد ہونے والے موٹروے انفراسٹرکچر کی مجموعی مالیت تقریباً 30 لاکھ روپے ہے، برآمد شدہ سامان میں آئرن پوسٹس، اسٹریٹ لائٹ پولز، اینٹی گلیئر شیلڈز اور فینسنگ شامل ہیں، جو موٹروے ایم۔5 کے مختلف حصوں سے چوری کیے گئے تھے۔ آپریشن کے دوران سیکٹر کمانڈر موٹروے پولیس ایس پی فیصل اکرم اور ایس ایس پی سکھر اظہر مغل موقع پر پہنچے اور کارروائی کی نگرانی کی۔ ترجمان کے مطابق موٹروے پولیس کی مدعیت میں 5 نامزد اور 6 نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔