موٹروے ایم-4 پر بس اور ٹرالر میں خوفناک ٹکر، بس ہوسٹس جاں بحق، متعدد مسافر زخمی
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
خانیوال میں موٹروے ایم–4 پر خوفناک حادثہ پیش آیا جہاں لاہور سے ملتان جانے والی مسافر بس ٹرالر سے ٹکرا گئی۔ ٹریفک حادثے کے نتیجے میں بس ہوسٹس موقع پر ہی جاں بحق جبکہ چار مسافر شدید زخمی ہوگئے۔
ترجمان موٹروے پولیس کے مطابق حادثہ ڈرائیور کی غفلت اور نیند کے باعث پیش آیا۔ حادثے کے فوراً بعد امدادی کارروائیاں شروع کی گئیں اور ریسکیو 1122 اور ایف ڈبلیو او کی ٹیموں نے زخمیوں کو بروقت طبی امداد فراہم کرتے ہوئے ڈی ایچ کیو خانیوال منتقل کر دیا۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ پانچ افراد معمولی زخمی بھی ہوئے ہیں،واقعے کے بعد سیکٹر کمانڈر، ڈی ایس پی اور موٹروے پولیس کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔