data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ہماری فکری اور تہذیبی شکست کا آغاز کسی بیرونی حملے یا فوجی یلغار سے نہیں ہوا تھا۔ یہ شکست اْس دن شروع ہوئی جب ہم نے یہ فرض کر لیا کہ کائنات کا اصل مرکز انسان ہے اور خدا محض ایک اخلاقی حوالہ یا روحانی سہارا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب علم کا محور بدل گیا، یقین سے وابستہ دنیا تحلیل ہونے لگی اور شک کے دروازے کھل گئے۔ کبھی علم کا مقصد معرفت تھا، کائنات کے پردوں کے پیچھے موجود حکمت کو سمجھنا، زندگی کے رموز کو جاننا اور اپنے وجود کے اسرار تک پہنچنا۔ مگر آج علم کا مقصد صرف سہولت ہے، آسائش ہے اور انسان کے ظاہری جسم کی ضروریات پوری کرنا ہے۔ علم کا رشتہ روح سے نہیں رہا، جیب سے رہ گیا ہے۔ جب سے انسان نے یہ تصور اپنا لیا کہ جو دکھائی نہ دے وہ حقیقت نہیں، جو ماپا نہ جائے وہ علمی نہیں، جو تجربے میں نہ آئے وہ معتبر نہیں اسی دن سے غیب غیر علمی ٹھیرا، روح مشکوک ہو گئی، اور خدا کا ذکر انفرادی عقیدے کی حد تک محدود کر دیا گیا۔ یقین کو دقیانوسی کہا گیا اور وحی کو غیر سائنسی قرار دے دیا گیا۔ یہ چھوٹی سی فکری سرکشی آگے چل کر پوری تہذیب کی بنیادیں ہلا گئی۔ انسان نے خود کو عقل ِ کل سمجھ کر کائنات میں وہ مقام حاصل کرنا چاہا جو کبھی صرف خالق کے لیے مخصوص تھا، اور اسی جدوجہد میں وہ اپنی حقیقت سے بہت دور نکل گیا۔
جب علم کو لذت کا خادم بنا دیا جائے تو علم اپنی روح کھو دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جدید یونیورسٹیاں دانش گاہیں نہیں رہیں، مہارت فیکٹریاں بن گئی ہیں۔ اب طالب علم اس لیے نہیں پڑھتا کہ اسے دنیا کی حقیقت سمجھنی ہے، بلکہ اس لیے پڑھتا ہے کہ اسے ایک اچھی نوکری چاہیے، زیادہ کمائی چاہیے، بہتر سہولتیں چاہئیں۔ اس سوچ نے علم کو سطحی بنا دیا ہے۔ پہلے فلسفہ انسان کے باطن میں اُترا کرتا تھا، اب انسان لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھ کے اپنے ہی وجود پر سوال اٹھانے سے ڈرتا ہے۔ پہلے مطالعہ انسان کو وسعت دیتا تھا، اب زیادہ تر لوگ وہی پڑھتے ہیں جو اْن کی خواہشات کو تقویت دے۔ پہلے علم انسان کو آسمان تک لے جاتا تھا، آج علم انسان کو زمین سے باندھ کر رکھتا ہے، جہاں وہ اپنے جسم کو تندرست رکھنے، اپنی خواہشات کو پورا کرنے اور اپنی دولت بڑھانے میں ہی الجھا رہتا ہے۔ یہ تبدیلی صرف ذہن تک محدود نہیں رہی، ہمارے رشتوں، تعلقات اور معاشرت تک بھی اُتر آئی۔ جو نکاح کبھی روحانی میثاق تھا، دو انسانوں کا خدا کی رضا کے تحت باہم جڑ جانا تھا، آج وہ ایک سماجی کنٹریکٹ بن کر رہ گیا ہے۔ ایسا کنٹریکٹ جس کا مقصد اخلاقی ذمے داری نہیں بلکہ باہمی سہولت ہے۔ جب دو لوگ ایک دوسرے سے سہولت لینا شروع کر دیتے ہیں، تو محبت پیچھے رہ جاتی ہے اور خود غرضی آگے آ جاتی ہے۔ اسی لیے جدید دور میں رشتے مضبوط نہیں رہے۔ ازدواجی تعلق کا درجہ گھٹ کر ’’partnership‘‘ رہ گیا ہے، اور partnership کا اصول ہی یہ ہے کہ جہاں فائدہ ختم، وہاں تعلق ختم۔
بچوں کی پرورش بھی ایک روحانی ذمے داری کے بجائے تکنیکی مسئلہ بن گئی ہے۔ پہلے ماں باپ کی قربانیوں میں عظمت تھی، آج انہیں غیر ضروری مشقت سمجھا جاتا ہے۔ پہلے والدین کی خدمت زندگی کا امتحان تھی، آج یہ ایک جذباتی بوجھ محسوس ہونے لگی ہے۔ والدین اولڈ ہومز میں منتقل کر دیے جاتے ہیں اور بچوں کو ڈے کیئرز میں۔ کبھی گھر ایک روحانی دائرہ تھا، آج وہ چار دیواری ہے جس میں لوگ ایک ساتھ رہتے تو ہیں مگر دل ایک نہیں ہوتا۔
اخلاقیات کا بحران بھی اسی فکری تبدیلی کی پیداوار ہے۔ جب انسان خیر و شر کے پیمانے وحی کے بجائے عقل کے سپرد کر دیتا ہے تو ہر فرد اپنی اخلاقیات خود بنانے لگتا ہے۔ ایک انسان کہتا ہے کہ لذت سب سے بڑی خیر ہے، دوسرا کہتا ہے آزادی خیر ہے، تیسرا کہتا ہے خواہش خیر ہے، اور چوتھا کہتا ہے کوئی خیر سرے سے موجود ہی نہیں۔ اس افراتفری میں ایسے اعمال جنہیں کبھی انسانیت کی تاریخ میں بدترین جرم سمجھا گیا؛ مثلاً ہم جنس پرستی، جنسی انارکی، خاندانی ڈھانچے کی توڑ پھوڑ، اور حتیٰ کہ حیاء کے بنیادی تصور کی بے حرمتی انہیں ’’حق‘‘ اور ’’انسانی آزادی‘‘ کا نام دے دیا گیا۔ جب خیر کا تصور مسخ ہو جائے تو برائی اپنے چہرے پر میک اپ کر لیتی ہے اور معاشرہ اسے حسن سمجھنے لگتا ہے۔
سیاست اور ریاست بھی اسی فکری تحلیل کی زد میں آئیں۔ پہلے ریاست کا مقصد انسانوں میں عدل قائم کرنا، اخلاقیات کو مضبوط کرنا اور معاشرے کو اعلیٰ اقدار کی طرف لے جانا تھا۔ مگر جدید ریاست کا مقصد عوام کی خواہشات پوری کرنا ہے، خواہ وہ خواہشات کتنی ہی ناپختہ، سطحی یا انسانیت دشمن کیوں نہ ہوں۔ پہلے قانون وحی سے پھوٹتا تھا، اب قانون بازار سے نکلتا ہے۔ پہلے اخلاقیات ریاست سے بالاتر اصول تھی، اب اخلاقیات کو ریاست کی ضرورتوں کے مطابق ڈھالا جاتا ہے۔ عوام اگر کل کو یہ فیصلہ کر لیں کہ نکاح کی کوئی ضرورت نہیں، خاندان غیر ضروری ہے، لذت انسانی حق ہے اور مادہ زندگی کا مقصد ہے، تو جدید ریاست ان خواہشات کو قانون بنا دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج قانون کا سرچشمہ اخلاقیات نہیں بلکہ معاشی مفادات ہیں۔
انسانی نفسیات پر اس تہذیبی بگاڑ کے اثرات سب سے زیادہ واضح ہیں۔ روح کو بھوک لگے تو جسم کبھی سیر نہیں ہو سکتا، مگر جدید انسان نے پوری توجہ جسم کو دے دی ہے اور روح کو بھول گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا بھر میں بے چینی، ڈپریشن، تنہائی، ذہنی خلفشار اور بے مقصدیت کی شرح تاریخ میں سب سے زیادہ ہے۔ انسان کے پاس دولت ہے، آسائشیں ہیں، ٹیکنالوجی ہے، علاج ہیں مگر دل میں سکون نہیں۔ کبھی عبادت روحانی بالیدگی کا ذریعہ تھی، اب لوگ روح کے خلا کو meditational apps, motivational videos اور self-help کتابوں سے بھرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر یہ عارضی مرہم ہیں، زخم جوں کا توں رہتا ہے کیونکہ زخم کا تعلق جسم سے نہیں روح سے ہے۔
اسلام کے نزدیک دنیا ایک عارضی پڑاؤ ہے۔ انسان یہاں اپنی صلاحیتوں کو آزمانے بھیجا گیا ہے، امتحان دینے کے لیے، اور اپنے اندر چھپی ہوئی اخلاقی توانائی کو بیدار کرنے کے لیے۔ مگر جدیدیت نے دنیا کو دائمی حقیقت بنا دیا ہے، جس کے نتیجے میں انسان نے اپنی تمام توانائیاں صرف اس مختصر زندگی کے گرد مرکوز کر لیں۔ پہلے انسان دنیا کو ایک ذریعہ سمجھتا تھا، آج اسے مقصد سمجھ بیٹھا ہے۔ اسی لیے جدید انسان دنیا کو جتنا حاصل کرتا ہے، دنیا اتنی ہی اس کے اندر خلا پیدا کرتی ہے۔ وہ چیزیں بڑھاتا ہے مگر خود کم ہوتا جاتا ہے۔ یہی وہ بنیادی تہذیبی ٹکراؤ ہے جس نے آج انسانیت کو دو راستوں پر کھڑا کر دیا ہے۔ ایک راستہ وہ ہے جو انسان کو اس کی اصل طرف لے جاتا ہے اپنے خالق کی طرف، اپنے مقصد ِ وجود کی طرف، اپنے باطن کی روشنی کی طرف۔ دوسرا راستہ وہ ہے جو انسان کو خواہشات کی غلامی میں گرفتار کرتا ہے، جہاں سب کچھ ہے مگر سکون نہیں، کامیابی ہے مگر مقصد نہیں، علم ہے مگر بصیرت نہیں۔
آخر میں اصل سوال یہی ہے کہ ہم کس راستے کے مسافر ہیں؟ وہ راستہ جو انسان کو بلند کرتا ہے، یا وہ جو انسان کو اس کے اپنے نفس کا غلام بنا دیتا ہے؟ ہم اس دنیا کی ظاہری روشنی میں کھو رہے ہیں یا اندر کی تاریکی کو دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ ہماری دوڑ ترقی کے نام پر ہے یا بھاگنے کے نام پر؟ ہم اپنی روح کو جگانا چاہتے ہیں یا اسے نیند میں رکھ کر دنیا کی جھوٹی چمک پر تکیہ کرنا چاہتے ہیں؟ یہ وہ فیصلے ہیں جو قوموں کو مراتب دیتے ہیں یا زوال۔ اور آج انسانیت اس دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ہر قدم یا تو اسے اوپر لے جا سکتا ہے یا سیدھا اندھیرے میں دھکیل سکتا ہے۔ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم اپنی اگلی نسل کو کون سی دنیا دے کر جانا چاہتے ہیں وہ دنیا جس میں انسان اپنے ربّ، اپنی فطرت اور اپنی حقیقت سے جڑا ہوا ہو، یا وہ دنیا جس میں انسان خواہشات کا غلام ہو کر خود کو بھی بھول جائے اور خدا کو بھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جو انسان کو جاتا ہے کہتا ہے کا مقصد ہے اور کی طرف ہے مگر علم کا گیا ہے
پڑھیں:
موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
دین و دنیا پروگرام اسلام ٹائمز کی ویب سائٹ پر ہر جمعہ نشر کیا جاتا ہے، اس پروگرام میں مختلف دینی و مذہبی موضوعات کو خصوصاً امام و رہبر کی نگاہ سے، مختلف ماہرین کے ساتھ گفتگو کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔ ناظرین کی قیمتی آراء اور مفید مشوروں کا انتظار رہتا ہے۔ متعلقہ فائیلیں پروگرام: دین و دنیا
موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
مہمان: عالمہ رافعہ منیر
میزبان : مولانا سید تقی زیدی
پیش کار و مدیر: سید انجم رضا
پیشکش: آئی ٹائمز ٹی وی اسلام ٹائمز اردو
خلاصہ گفتگو:
کربلا میں عشق کے دو بلند ترین مینار ہیں: ایک سرورِ شہداء امام حسین علیہ السلام کی قربانی کا جلوہ، اور دوسرا اس آفتابِ عصمت کی تابناکی، جس کا نام حضرت زینب سلام اللہ علیہا ہے۔ یہیں پر خواتین کا کردار تاریخ کی سب سے درخشاں داستان بن کر ابھرتا ہے۔ بی بی زینبؑ نے نہ صرف اپنی آنکھوں سے بھائی کے لہو کا منظر دیکھا، بلکہ اپنی گفتار اور استقامت سے عاشورہ کی نہضت کو ابدی زندگی عطا کی، یزید کی باطل حکومت کو جوابِ شافی دیا اور اسے اخلاقی شکست کا مزہ چکھایا۔ کربلائی خواتین نے اپنے شوہروں، بھائیوں اور بچوں کو حوصلہ دیا کہ وہ اپنے امام کی راہ میں سبقت کریں؛ چنانچہ چھوٹے سے چھوٹے طفلِ شیرخوار نے بھی لبِ تشنہ سے قربانی کا یہ پیغام جگا دیا کہ عشقِ حسینی میں کسی کو کسی کی پروا نہیں، بس جلوۂ حق ہے اور اس کی خاطر ہر چیز فدا۔
یہ انفرادی جہاد ہی نہیں، بلکہ خواتین کا اجتماعی کردار بھی معاشرے کی تشکیل میں ناقابلِ فراموش حیثیت رکھتا ہے۔ شہیدِ امت، رہبر معظم انقلاب نے بارہا اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ معاشرہ خواتین کے کردار کے بغیر اپنی پختگی اور تکمیل نہیں پا سکتا۔ لہٰذا خواتین کو اپنے ہر شعبۂ زندگی، خاص طور پر علم و تعلیم کے میدان میں کمال حاصل کرنا چاہیے، کیونکہ بعض ذمہ داریاں ایسی ہیں جنہیں مرد انجام نہیں دے سکتے، مگر ایک باہوش، باصلاحیت اور تربیت یافتہ عورت انہیں بہترین انداز میں سرانجام دے سکتی ہے۔ یہی وہ راہ ہے جو کربلا کی درسگاہ سے نکلتی ہے اور ہر دور کی خواتین کو اپنی داخلی قوت کو پہچاننے اور اپنے معاشرتی فرائض کو پورا کرنے کا پیغام دیتی ہے۔