data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ہماری فکری اور تہذیبی شکست کا آغاز کسی بیرونی حملے یا فوجی یلغار سے نہیں ہوا تھا۔ یہ شکست اْس دن شروع ہوئی جب ہم نے یہ فرض کر لیا کہ کائنات کا اصل مرکز انسان ہے اور خدا محض ایک اخلاقی حوالہ یا روحانی سہارا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب علم کا محور بدل گیا، یقین سے وابستہ دنیا تحلیل ہونے لگی اور شک کے دروازے کھل گئے۔ کبھی علم کا مقصد معرفت تھا، کائنات کے پردوں کے پیچھے موجود حکمت کو سمجھنا، زندگی کے رموز کو جاننا اور اپنے وجود کے اسرار تک پہنچنا۔ مگر آج علم کا مقصد صرف سہولت ہے، آسائش ہے اور انسان کے ظاہری جسم کی ضروریات پوری کرنا ہے۔ علم کا رشتہ روح سے نہیں رہا، جیب سے رہ گیا ہے۔ جب سے انسان نے یہ تصور اپنا لیا کہ جو دکھائی نہ دے وہ حقیقت نہیں، جو ماپا نہ جائے وہ علمی نہیں، جو تجربے میں نہ آئے وہ معتبر نہیں اسی دن سے غیب غیر علمی ٹھیرا، روح مشکوک ہو گئی، اور خدا کا ذکر انفرادی عقیدے کی حد تک محدود کر دیا گیا۔ یقین کو دقیانوسی کہا گیا اور وحی کو غیر سائنسی قرار دے دیا گیا۔ یہ چھوٹی سی فکری سرکشی آگے چل کر پوری تہذیب کی بنیادیں ہلا گئی۔ انسان نے خود کو عقل ِ کل سمجھ کر کائنات میں وہ مقام حاصل کرنا چاہا جو کبھی صرف خالق کے لیے مخصوص تھا، اور اسی جدوجہد میں وہ اپنی حقیقت سے بہت دور نکل گیا۔
جب علم کو لذت کا خادم بنا دیا جائے تو علم اپنی روح کھو دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جدید یونیورسٹیاں دانش گاہیں نہیں رہیں، مہارت فیکٹریاں بن گئی ہیں۔ اب طالب علم اس لیے نہیں پڑھتا کہ اسے دنیا کی حقیقت سمجھنی ہے، بلکہ اس لیے پڑھتا ہے کہ اسے ایک اچھی نوکری چاہیے، زیادہ کمائی چاہیے، بہتر سہولتیں چاہئیں۔ اس سوچ نے علم کو سطحی بنا دیا ہے۔ پہلے فلسفہ انسان کے باطن میں اُترا کرتا تھا، اب انسان لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھ کے اپنے ہی وجود پر سوال اٹھانے سے ڈرتا ہے۔ پہلے مطالعہ انسان کو وسعت دیتا تھا، اب زیادہ تر لوگ وہی پڑھتے ہیں جو اْن کی خواہشات کو تقویت دے۔ پہلے علم انسان کو آسمان تک لے جاتا تھا، آج علم انسان کو زمین سے باندھ کر رکھتا ہے، جہاں وہ اپنے جسم کو تندرست رکھنے، اپنی خواہشات کو پورا کرنے اور اپنی دولت بڑھانے میں ہی الجھا رہتا ہے۔ یہ تبدیلی صرف ذہن تک محدود نہیں رہی، ہمارے رشتوں، تعلقات اور معاشرت تک بھی اُتر آئی۔ جو نکاح کبھی روحانی میثاق تھا، دو انسانوں کا خدا کی رضا کے تحت باہم جڑ جانا تھا، آج وہ ایک سماجی کنٹریکٹ بن کر رہ گیا ہے۔ ایسا کنٹریکٹ جس کا مقصد اخلاقی ذمے داری نہیں بلکہ باہمی سہولت ہے۔ جب دو لوگ ایک دوسرے سے سہولت لینا شروع کر دیتے ہیں، تو محبت پیچھے رہ جاتی ہے اور خود غرضی آگے آ جاتی ہے۔ اسی لیے جدید دور میں رشتے مضبوط نہیں رہے۔ ازدواجی تعلق کا درجہ گھٹ کر ’’partnership‘‘ رہ گیا ہے، اور partnership کا اصول ہی یہ ہے کہ جہاں فائدہ ختم، وہاں تعلق ختم۔
بچوں کی پرورش بھی ایک روحانی ذمے داری کے بجائے تکنیکی مسئلہ بن گئی ہے۔ پہلے ماں باپ کی قربانیوں میں عظمت تھی، آج انہیں غیر ضروری مشقت سمجھا جاتا ہے۔ پہلے والدین کی خدمت زندگی کا امتحان تھی، آج یہ ایک جذباتی بوجھ محسوس ہونے لگی ہے۔ والدین اولڈ ہومز میں منتقل کر دیے جاتے ہیں اور بچوں کو ڈے کیئرز میں۔ کبھی گھر ایک روحانی دائرہ تھا، آج وہ چار دیواری ہے جس میں لوگ ایک ساتھ رہتے تو ہیں مگر دل ایک نہیں ہوتا۔
اخلاقیات کا بحران بھی اسی فکری تبدیلی کی پیداوار ہے۔ جب انسان خیر و شر کے پیمانے وحی کے بجائے عقل کے سپرد کر دیتا ہے تو ہر فرد اپنی اخلاقیات خود بنانے لگتا ہے۔ ایک انسان کہتا ہے کہ لذت سب سے بڑی خیر ہے، دوسرا کہتا ہے آزادی خیر ہے، تیسرا کہتا ہے خواہش خیر ہے، اور چوتھا کہتا ہے کوئی خیر سرے سے موجود ہی نہیں۔ اس افراتفری میں ایسے اعمال جنہیں کبھی انسانیت کی تاریخ میں بدترین جرم سمجھا گیا؛ مثلاً ہم جنس پرستی، جنسی انارکی، خاندانی ڈھانچے کی توڑ پھوڑ، اور حتیٰ کہ حیاء کے بنیادی تصور کی بے حرمتی انہیں ’’حق‘‘ اور ’’انسانی آزادی‘‘ کا نام دے دیا گیا۔ جب خیر کا تصور مسخ ہو جائے تو برائی اپنے چہرے پر میک اپ کر لیتی ہے اور معاشرہ اسے حسن سمجھنے لگتا ہے۔
سیاست اور ریاست بھی اسی فکری تحلیل کی زد میں آئیں۔ پہلے ریاست کا مقصد انسانوں میں عدل قائم کرنا، اخلاقیات کو مضبوط کرنا اور معاشرے کو اعلیٰ اقدار کی طرف لے جانا تھا۔ مگر جدید ریاست کا مقصد عوام کی خواہشات پوری کرنا ہے، خواہ وہ خواہشات کتنی ہی ناپختہ، سطحی یا انسانیت دشمن کیوں نہ ہوں۔ پہلے قانون وحی سے پھوٹتا تھا، اب قانون بازار سے نکلتا ہے۔ پہلے اخلاقیات ریاست سے بالاتر اصول تھی، اب اخلاقیات کو ریاست کی ضرورتوں کے مطابق ڈھالا جاتا ہے۔ عوام اگر کل کو یہ فیصلہ کر لیں کہ نکاح کی کوئی ضرورت نہیں، خاندان غیر ضروری ہے، لذت انسانی حق ہے اور مادہ زندگی کا مقصد ہے، تو جدید ریاست ان خواہشات کو قانون بنا دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج قانون کا سرچشمہ اخلاقیات نہیں بلکہ معاشی مفادات ہیں۔
انسانی نفسیات پر اس تہذیبی بگاڑ کے اثرات سب سے زیادہ واضح ہیں۔ روح کو بھوک لگے تو جسم کبھی سیر نہیں ہو سکتا، مگر جدید انسان نے پوری توجہ جسم کو دے دی ہے اور روح کو بھول گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا بھر میں بے چینی، ڈپریشن، تنہائی، ذہنی خلفشار اور بے مقصدیت کی شرح تاریخ میں سب سے زیادہ ہے۔ انسان کے پاس دولت ہے، آسائشیں ہیں، ٹیکنالوجی ہے، علاج ہیں مگر دل میں سکون نہیں۔ کبھی عبادت روحانی بالیدگی کا ذریعہ تھی، اب لوگ روح کے خلا کو meditational apps, motivational videos اور self-help کتابوں سے بھرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر یہ عارضی مرہم ہیں، زخم جوں کا توں رہتا ہے کیونکہ زخم کا تعلق جسم سے نہیں روح سے ہے۔
اسلام کے نزدیک دنیا ایک عارضی پڑاؤ ہے۔ انسان یہاں اپنی صلاحیتوں کو آزمانے بھیجا گیا ہے، امتحان دینے کے لیے، اور اپنے اندر چھپی ہوئی اخلاقی توانائی کو بیدار کرنے کے لیے۔ مگر جدیدیت نے دنیا کو دائمی حقیقت بنا دیا ہے، جس کے نتیجے میں انسان نے اپنی تمام توانائیاں صرف اس مختصر زندگی کے گرد مرکوز کر لیں۔ پہلے انسان دنیا کو ایک ذریعہ سمجھتا تھا، آج اسے مقصد سمجھ بیٹھا ہے۔ اسی لیے جدید انسان دنیا کو جتنا حاصل کرتا ہے، دنیا اتنی ہی اس کے اندر خلا پیدا کرتی ہے۔ وہ چیزیں بڑھاتا ہے مگر خود کم ہوتا جاتا ہے۔ یہی وہ بنیادی تہذیبی ٹکراؤ ہے جس نے آج انسانیت کو دو راستوں پر کھڑا کر دیا ہے۔ ایک راستہ وہ ہے جو انسان کو اس کی اصل طرف لے جاتا ہے اپنے خالق کی طرف، اپنے مقصد ِ وجود کی طرف، اپنے باطن کی روشنی کی طرف۔ دوسرا راستہ وہ ہے جو انسان کو خواہشات کی غلامی میں گرفتار کرتا ہے، جہاں سب کچھ ہے مگر سکون نہیں، کامیابی ہے مگر مقصد نہیں، علم ہے مگر بصیرت نہیں۔
آخر میں اصل سوال یہی ہے کہ ہم کس راستے کے مسافر ہیں؟ وہ راستہ جو انسان کو بلند کرتا ہے، یا وہ جو انسان کو اس کے اپنے نفس کا غلام بنا دیتا ہے؟ ہم اس دنیا کی ظاہری روشنی میں کھو رہے ہیں یا اندر کی تاریکی کو دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ ہماری دوڑ ترقی کے نام پر ہے یا بھاگنے کے نام پر؟ ہم اپنی روح کو جگانا چاہتے ہیں یا اسے نیند میں رکھ کر دنیا کی جھوٹی چمک پر تکیہ کرنا چاہتے ہیں؟ یہ وہ فیصلے ہیں جو قوموں کو مراتب دیتے ہیں یا زوال۔ اور آج انسانیت اس دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ہر قدم یا تو اسے اوپر لے جا سکتا ہے یا سیدھا اندھیرے میں دھکیل سکتا ہے۔ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم اپنی اگلی نسل کو کون سی دنیا دے کر جانا چاہتے ہیں وہ دنیا جس میں انسان اپنے ربّ، اپنی فطرت اور اپنی حقیقت سے جڑا ہوا ہو، یا وہ دنیا جس میں انسان خواہشات کا غلام ہو کر خود کو بھی بھول جائے اور خدا کو بھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جو انسان کو جاتا ہے کہتا ہے کا مقصد ہے اور کی طرف ہے مگر علم کا گیا ہے
پڑھیں:
عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔
ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔
ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔
ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔
اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔
نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔
لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔
سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔
بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔
پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔