علی امین گنڈا پور نے درست احتجاج کا طریقہ اپنا ہی لیا،عطاء تارڑ کا وزیراعلیٰ کے بیان پر تبصرہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 09 جنوری2025ء)وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ علی امین گنڈا پور نے درست احتجاج کا طریقہ اپنا ہی لیا، مہذب معاشروں میں احتجاج پر امن ہی ہوتا ہے اور کام بھی چلتا رہتا ہے، زندگی مفلوج نہیں ہوتی۔
(جاری ہے)
اپنے بیان میں انہوںنے کہاکہ وزیراعلیٰ کے پی کے کی جانب سے 10 ماہ میں پہلی مرتبہ احتجاج کا درست انداز اپنانا قابل تحسین ہے۔ انہوںنے کہاکہ کاش وہ 26 نومبر اور 9 مئی کو بھی چڑھائی اور جلاؤ گھیراؤ کرنے کی بجائے ایسے ہی اوو اوو کر کے احتجاج کرلیتے۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ قوم جانتی ہے کہ انتشار، فساد، جلائو گھیرائو آپ کا وطیرہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔