مسائل کے حل کیلئے کاروباری برادری کے ساتھ رابطہ رکھنا ضروری ہے:گورنر سٹیٹ بینک
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2025 GMT
ویب ڈیسک: گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد کا کہنا ہے کہ مالی سال 2025ء کی چوتھی سہ ماہی میں افراطِ زر بڑھ سکتا ہے اور جون 2025ء میں مہنگائی بڑھ سکتی ہے۔
کراچی میں ایف پی سی سی آئی سے خطاب کرتے ہوئے گورنر سٹیٹ بینک نے کہا کہ مسائل کے حل کیلئے کاروباری برادری کے ساتھ رابطہ رکھنا ضروری ہے،انہوں نے کہا کہ جنوری 2023ء میں کاروبار بالخصوص امپورٹس کے کافی مسائل تھے، 2023ء کے آغاز میں 10 ہزار سے زائد امپورٹ ریکوئسٹس موجود تھیں۔
آج کے گوشت اور انڈوں کے ریٹس -جمعرات 09جنوری ، 2024
گورنر سٹیٹ بینک نے کہا کہ جنوری 2023ء میں زرمبادلہ ذخائر 3 ارب ڈالر تھے، جنوری 2023ء میں ترسیلات زر ماہانہ 2 ارب ڈالر تک گر گئے تھے، جنوری 2023ء میں شدید چیلنجز کا سامنا تھا جن میں ابھی کافی بہتری آئی ہے،انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک کی جانب سے امپورٹس پر اب قدغن نہیں ہے، 2022ء میں کرنٹ اکاؤنٹ ساڑھے 17 ارب ڈالر خسارے میں تھا جو کہ جی ڈی پی کا 4.
پنجاب میں ترقیاتی سکیموں و منصوبوں کی رفتار تیز کرنے کے لئے نئی حکمت عملی مرتب
ان کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس کا سلسلہ جاری رہے گا، فاریکس مارکیٹ میں لیکیوڈیٹی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے،انہوں نے کہا کہ 2023ء کی پہلی ششماہی تک افراطِ زر سالانہ 38 فیصد تک پہنچ گیا تھا، مالی سال 25ء کی چوتھی سہ ماہی میں افراطِ زر بڑھ سکتا ہے اور جون 2025ء میں مہنگائی بڑھ سکتی ہے،گورنر جمیل احمد نے کہا کہ مرکزی بینک اپنا کام کررہا ہے، صنعت بھی قیمتوں کو مستحکم رکھے، مالی سال 2025ء کے اختتام تک افراطِ زر کو 5 سے 7 فیصد تک مستحکم کر دیں گے۔
پھلوں اور سبزیوں کی آج کی ریٹ لسٹ-جمعرات 09 جنوری ، 2024
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: مالی سال
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔