سجاول (نمائندہ جسارت) ڈپٹی کمشنر زاہد حسین رند نے کہا ہے کہ ضلعی انتظامیہ زرعی، سماجی و ثقافتی اور تعلیمی پروجیکٹ پر مبنی سرگرمیوں میں جدید اور اختراعی اقدامات کو فروغ دینے اور ان کی نمائش کے لیے میلے کا انعقاد کرنے جا رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے زرعی، سماجی و ثقافتی اور تعلیمی و سائنسی میلے کے انعقاد سے متعلق دربار ہال میں منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے تمام متعلقہ محکموں بالخصوص محکمہ زراعت اور جنگلات کے افسران کو ہدایت کی کہ وہ فیسٹیول میں نمائش کے لیے زراعت اور درخت لگانے سے متعلق اپنے پروجیکٹ کے متعلق پلان جلد پیش کریں۔ انہوں نے محکمہ سوشل ویلفیئر کے افسران کو ہدایت کی کہ وہ ضلع میں مختلف منصوبوں پر کام کرنے والی تمام ملکی و غیر ملکی این جی اوز کو بھی زراعت، سماجی و ثقافتی، تعلیم، درخت لگانے اور سائنسی سرگرمیوں سے متعلق اپنے پلان کے ساتھ آئندہ ہفتے ہونے والے اجلاس میں شرکت کے لیے پابند بنائیں تاکہ مزید حکمت عملی تشکیل دے کر فیسٹیول کے انعقاد کو یقینی بنایا جا سکے۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ زراعت کا شعبہ ہماری معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور فی ایکڑ پیداوار بڑھانے اور غذائی استحکام کے حصول کے لیے اس شعبے کو سائنسی بنیادوں پر استوار کرنا ناگزیر ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔

وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔

حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔

حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔

وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ