پاکستان کا وہ گاؤں جہاں یوٹیوبرز کی بھرمار نے سوشل میڈیا ہلاڈالا
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2025 GMT
سوشل میڈیا کے اس جدید دور میں صرف شہری ہی نہیں بلکہ دیہاتی طبقہ بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا ہے اور اپنے روز مرہ روٹین کا ویلاگ بناکر یوٹیوب سے لاکھوں روپے ماہانہ کما رہا ہے۔
ویڈیو شیئرنگ ایپ یوٹیوب پر نظر ڈالی جائے تو ایک کے بعد ایک ویلاگنگ چینل سامنے آتے ہیں جس پر لوگ اپنے ہر چھوٹے بڑے ، خاص و عام کام کیمرے کے سامنے ریکارڈ کرکے دنیا کو دکھاتے ہیں۔
لیکن کیا آپ ایک ایسے گاؤں کے بارے میں جانتے ہیں جہاں گولڈن، اور سلور پلے بٹن کی بھرمار ہے اور یہاں کا ہر بندہ ایک یوٹیوبر بنا ہوا ہے، یہاں تک کہ ہر گھر کے لوگوں کا اپنا یوٹیوب چینل ہے۔
جی ہاں ہم بات کر رہے ہیں پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کے ایک چھوٹے سے قصبے کی جہاں کے ایک رہائشی کا کہنا ہے کہ انہوں نے تقریباً 1 سے ڈیڑھ سال قبل یوٹیوب کی دنیا میں قدم رکھا تھا اور آج وہ تقریباً 100 سے زائد یوٹیوب پلے بٹن کے مالک ہیں اور جلد ڈائمنڈ بٹن بھی انکی ملکیت میں ہوگا۔
ابتدائی جدوجہد، لوگوں کے منفی تبصرے اور مزاحیہ ردعمل کے باوجود اس شخص نے اپنی 6 سالہ اسپتال کی نوکری کو چھوڑ کر یوٹیوب چینل بناڈالا اور صرف 6ماہ میں اپنے دو سے تین چینل مونیٹائز کروالیے۔
یوٹیوبر نے اپنی ابتدائی جدوجہد پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ انکا پہلا چینل اسلامک کانٹنٹ پر مبنی تھا جس پر ایک ویڈیو اتنی وائرل ہوئی کہ ملینز میں ویوز ملے، بس پھر کیا اسی ایک ویڈیو کے بعد انہوں نے اپنا چینل مونیٹائز کرنے کے ساتھ مزید چینل بنالیے۔
یوٹیوبر کا کہنا تھا کہ پہلے وہ اکیلے اس چینل کو آگے بڑھا رہے تھے لیکن اب انکی ٹیم میں تقریباً 20 لوگ کام کر رہے ہیں اور ہر ایک ٹیم ممبر کے پاس 2 سے 3 چینل ہیں۔
یوٹیوبر نے مزید یہ انکشاف بھی کیا صرف انکے گاؤں سے 200 سے زیادہ چینل یوٹیوب پر موجود ہیں اور اس گاؤں میں کوئی ایسا گھر نہیں جس کا یوٹیوب چینل نہ ہو۔یہاں تک کہ آس پاس کے گاؤں کے لوگ بھی یہاں آکر ٹریننگ لیتے ہیں اور اپنا چینل بناتے ہیں۔
یوٹیوب سے اپنی آمدنی کا انکشاف کرتے ہوئے یوٹیوب حیدر علی کا کہنا ہے کہ اب وہ یوٹیوب سے ایک دن میں اتنا کما لیتے ہیں جتنا وہ پورے سال میں اسپتال کی نوکری سے بھی نہیں کماتے تھے، جبکہ انکے ٹیم ممبرز بھی تقریباً ماہانہ 5 سے 6 لاکھ روپے کماتے ہیں۔
یوٹیوبر حیدر علی کا ماننا ہے کہ اب پاکستان میں اتنا ٹیلنٹ موجود ہے کہ لوگ بیرون ملک سے زیادہ پاکستان میں رہ کر آمدنی حاصل کرسکتے ہیں۔
.ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ہیں اور
پڑھیں:
پہلگام واقعہ: بھارتی چینل نے پی ایس ایل کی لائیو اسٹریمنگ معطل کردی
بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) اپنی انتہا پسند مودی حکومتی ایما پر ایک مرتبہ پھر کھیل میں پھر سیاست لے آیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت نے پہلگام واقعہ پر اسپورٹس اسٹریمنگ چینل فینکوڈ نے ہندوستان میں پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی لائیو اسٹریمنگ کو معطل کرتے ہوئے ٹورنامنٹ سے متعلق ویڈیوز اور میچز کی جھلکیاں بھی ہٹادیں۔فینکوڈ نامی اسپورٹس اسٹریمنگ چینل پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں ڈیجیٹل اسٹریمنگ پارٹنر تھا .تاہم اب واقعہ کے بعد انہوں نے اب پی ایس ایل کے 10ویں ایڈیشن کی فوری طور پر نشریات بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کا 10واں ایڈیشن 11 اپریل سے شروع ہوا تھا اور 18 مئی تک جاری رہے گا۔ فینکوڈ کے علاوہ بھارتی اسپورٹس پارٹنرز میں سونی نیٹ ورک بھی سیٹلائٹ ٹی وی کا براڈکاسٹنگ پارٹنر ہے. جس کی جانب سے بھی یہ اقدام اٹھائے جانے کا امکان ہے۔
دوسری جانب انتہا پسند ہندوؤں کی جانب سے پہلگام واقعہ کے بعد اںڈین پریمئیر لیگ (آئی پی ایل) کے بائیکاٹ کی مہم چلائی جارہی ہے۔