میرے خلاف کوئی بولے گا تو خاموش نہیں رہوں گا، شیر افضل مروت نے پی ٹی آئی رہنماؤں کو خبردار کردیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شیر افضل مروت نے پی ٹی آئی میں اختلافات کے حوالے سے خاموشی توڑتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کوئی میرے خلاف باتیں کرے گا تو مجھ سے خاموشی کی توقع نہیں رکھے۔
رہنما پی ٹی آئی شیر افضل مروت نے پروگرام سینٹر اسٹیج میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سلمان اکرم راجہ معاملے پر میں نے پارٹی کو کمٹمنٹ دی کہ مزید تنازع کھڑا نہیں کروں گا لیکن کسی کو یہ حق نہیں کہ خامواخواں میرے خلاف میڈیا پر بیٹھ کر بیانات دے، میرے خلاف کوئی بات کرے گا تو ایسی صورت میں کوئی یہ توقع نہ رکھے کہ میں خاموش رہوں گا۔
انہوں نے کہا کہ میڈیا پر آکر بات کریں گے تو ایشو بنیں گے، چاہے وہ جو بھی ہو میرے حوالےسے بات کرے گا تو جواب ضرور دوں گا ۔
انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں کو میرے حوالے سے لوگوں کی محبت برداشت نہیں ہو رہی ہے، ہماری پارٹی میں پریشرگروپس ہیں، بانی پی ٹی آئی کے کان بھرے جاتے ہیں لیکن میں کبھی بانی پی ٹی آئی کے پاس گروپنگ کرنے کے لیے نہیں گیا، میرے پاس صرف عزت ہے براہ مہربانی اس کو مت چھیڑو۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میرا خیال ہے حکومت اور پی ٹی آئی دونوں جانب سے صرف کریکر فائر ہو رہے ہیں لیکن مذاکرات کا عمل جاری رہے گا، بات چیت کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی پہلے ہی کہہ دیا کہ مطالبات لکھ کر دے دیں تو معاملہ آگے بڑھ جانا چاہیے تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرانا کوئی اتنا سنجیدہ مسئلہ نہیں ہے، عمران خان نے کہا کہ ملاقات نہیں بھی کراتے تو مذاکرات کی ٹیبل پر بیٹھیں، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کا آج بیان دیکھا لیکن میں سمجھتا ہوں کہ وہ کنوینئر ہیں، ان کو تاریخ رکھ کر اجلاس بلانا چاہیے تھا، ہم نے ان کے سامنے وہ مطالبات نہیں رکھے جو یہ پورے نہیں کر سکتے۔
شیر افضل مروت نے کہا کہ پی ٹی آئی بڑے تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہے، حکومت کی طرف سے بد مزگی پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن جب مذاکرات کی ٹیبل پر بیٹھیں گے تو ماحول بہتر ہو جائے گا۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ22 سے 25 نومبر کی رات تک کیا ملاقاتیں ہو رہی تھیں؟ ظاہر ہے ہمیں آفرز ہوئی ، یہ غلط ہے کہ ہمیں کوئی آفر نہیں ہوئی۔ مجھے ذاتی طور پر نہیں معلوم کے کسی کے ساتھ بیک ڈور رابطہ ہوا لیکن جس نے ماضی میں بیک ڈور رابطہ کیا وہ تو مذاکراتی ٹیم میں ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی شیر افضل مروت میرے خلاف نے کہا کہ
پڑھیں:
بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
راولپنڈی: بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو تنبیہ کی ہے کہ عمران خان سے ملاقات ہونے تک صوبے کا بجٹ منظور نہ ہونے دیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعلی سہیل آفریدی نے علیمہ خان کے ساتھ فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفتگو کی۔ اس دوران سہیل آفریدی نے بجٹ پاس کرنے کی بات کی تو علیمہ خان نے انہیں ٹوک دیا۔
علیمہ خان نے سہیل آفریدی کو خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس کرنے پر تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ بجٹ پاس کیوں کر رہے ہیں؟ ان سے کہیں پہلے میری بانی سے ملاقات کروائیں‘۔
علیمہ خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے پچھلے سال بھی کہا تھا میرے ساتھ بجٹ پر بات کرو ، آپ آج بھی ان سے کہیں بجٹ سے پہلے بانی سے ملاقات کرائیں ۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ گلگت بلتستان میں سارے لوگ ظلم کیخلاف کھڑے ہوگئے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کو تنہا کیا گیا جو غیر قانونی اور غیر آئینی ہے، ہمارا یہاں آنے کا ایک ہی مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشل منتقل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ بانی کا علاج انکی فیملی اور ذاتی معالج کی موجودگی میں ہو، ان کے مقاصد کچھ اور ہیں اس لئے یہ ملنے نہیں دے رہے۔ عید سے پہلے انہون نے ہمیں گیارہ گھنٹے تک روک کر عوام کو مصیبت میں ڈالا گیا
اُن کا کہنا تھا کہ مجھے اگر نہیں ملنے دیتے تو فیملی کو کم از کم ملنے دیا جائے، پاکستان تحریک انصاف بانی پی ٹی آئی کا نام ہے، بانی نے جیل سے فیصلہ کیا کہ فلاں وزیر اعلیٰ نہیں ہو گا، بانی کے فیصلے کے بعد کوئی بھی طاقت اس کو نہیں بچا سکتی تھی۔
مزید پڑھیںاڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
190 ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکالت ناموں پر دستخط نہ ہو سکے
علیمہ خان نے سابق آرمی چیف کی عمران خان سے ملاقات کی خبر کو بے بنیاد قرار دیدیا
انہوں نے کہا کہ بانی نے کہا سہیل آفریدی وزیر اعلیٰ ہو گا تو دنیا کی کوئی طاقت اس کو تبدیل نہیں کرسکتی، اڈیالہ جیل سے جب تک بانی کا کوئی نیا پیغام نہیں آئے گا میں ہی وزیر اعلیٰ رہوں گا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ کے پی کی حکومت فقط بانی پی ٹی ہی ختم کر سکتے ہیں اور اس کے علاوہ یہ کام کوئی نہیں کرسکتا، صوبے میں فارورڈ بلاک پروپیگینڈا ہے اور یہ اس لئے کیا گیا وفاقی بجٹ میں ایک بار پھر عوام کا خون چوسا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کے اندرونی و بیرونی قرضے 97 ارب تک پہنچ چکے، حکومت ٹیکس کے اہداف پورے نہیں کر سکی اور آج حکومت میں شامل پارٹیاں عوام کا نہیں سوچ رہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ پاکستان کا تجارتی خسارہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے، میری تمام لوگوں سے درخواست ہے کہ وہ بانی کے علاج کیساتھ اس بجٹ پر فوکس رکھیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ کے پی حکومت نے کابینہ سے بجٹ پیپر پاس کر دیا ہے اور ہم نے کوئی سرپلس بجٹ نہیں دیا، اس سال بھی عوام دوست بجٹ پیش کیا جائے گا۔ ہمارا سارا فوکس صحت تعلیم زراعت نوجوان اور جنگلات پر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنے بجٹ میں بہت اچھی اور عوام دوست چیزیں لا رہے ہیں، وفاقی بجٹ کا اثر سارے صوبوں بشمول گلگت بلتستان پر پڑے گا۔