سر ایڈمنڈ ہلیری اور منڈیلا
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2025 GMT
یہ 29 مئی، 1953 کا دن تھا جب نیوزی لینڈ کے کوہ پیما اور مخیر شخصیت، سر ایڈمنڈ ہلیری (Sir Edmond Hillary) نے اپنا اگلا قدم بڑھایا تو اچانک اُن کا جسم آگے کی جانب جھک گیا۔ یہ کیا ہوا؟ وہ حیران ہو گئے۔ اگلے ہی لمحے احساس ہوا کہ وہ کوہ ایورسٹ کی چوٹی پر پہنچ گئے ہیں۔ انھوں نے خود کو سنبھالا، سیدھا کیا، چوٹی کو سرکرنے کی رُسومات انجام دیں اور کامیابی کے ثبوت اکٹھا کیے تاکہ تاریخ میں اَمر ہو جائیں۔
ایڈمنڈ ہلیری کا مددگار نیپالی قلی ٹینزنگ نورگے (Tenzing Norgay)، چند فٹ پیچھے تھا، اگر وہ تھوڑا سا اور آگے ہوتا تو شاید ایڈمنڈ کی ٹانگ کھینچ کر نیچے پھینک دیتا اورکو ہ ایورسٹ سر کرنے والا پہلا انسان بن جاتا اور یہ اعزاز نیپال کے حصے میں آجاتا۔ تاہم، نورگے نے ایسا نہیں کیا اور نہ ہی اس کے پاس ایسا موقع تھا۔
اس واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ’ ہرکمال کے بعد زوال ہے‘ دوسرا سبق یہ ملتا ہے کہ کسی بھی کمال کے حصول کے دوران آپ کو ایسے افراد کا ساتھ حاصل رہنا چاہیے جو آپ کے مقصد کے حصول کے دوران آپ کی ٹانگ کھینچنے کے بجائے پُرخلوص انداز میں آپ کا ساتھ دیں،ورنہ صورت حال مختلف بھی ہو سکتی ہے۔
1992 کے کرکٹ عالمی کپ کے فاتح، لاہور میں سرطان کے حوالے سے یادگاری وقف کو چلانے والے اور اپنی محض اِن دو کامیابیوں کے بل بوتے پر اقتدار کے کوہ ایورسٹ کو سر کرنے کی خواہش رکھنے والے کرکٹر کا قصہ قدرے مختلف ہے۔ یہ کرکٹر بھول گیا تھا کہ ٹیم میں کھلاڑیوں کا انتخاب، خیراتی ٹرسٹ کو چلانا اور پاکستانی سیاست، تینوں اقسام کے کھیلوں کا نہ صرف فارمیٹ مختلف ہے بلکہ یہ‘‘
different ball’s games‘‘ ہیں۔
کرکٹ میں میچ جتانے والے بولر کی ناراضی مول لی نہیں جا سکتی تھی کہ کرکٹ بھی ایک کاروباری سرگرمی ہے اور ہر کاروبار کا مطمع نظر منافع کمانا ہوتا ہے اورکاروبار میں ایسی کوئی غلطی کی نہیں جا سکتی جو بڑے مالی نقصان کا سبب بنے۔
وقف کرکٹر کی اطاعت کرنے والا ادارہ تھا اور ہے۔ سب کو معلوم تھا کہ خان صاحب کی ناراضی مول لینے کا مطلب ملازمت یا وقف سے برخاستی ہے، لہٰذا، وہ خان صاحب کی مرضی اور حکم کو سر آنکھوں پر رکھتے تھے اور یہی وقف کی کامیابی کا راز تھا۔ اس کے برخلاف سیاست مال کے بدلے مال کی بنیاد پر کام کرتی ہے یعنی ’’ کچھ دو گے، تو کچھ لے سکو گے‘‘ اس کا خیرات سے کوئی لینا دینا ہوتا نہیں ہے۔
کرکٹر نے جب سیاست کے ایورسٹ پر چڑھنے کے لیے کاروباری قلیوں کی خدمات حاصل کیں تو یقیناً انھیں اُن کی خدمات کا معاوضہ بھی دینا پڑا اور وہ بھی اُن کا من مانا۔ بس یہیں سے حکومتی کوہ ایورسٹ کو سرکرنے کا عمل زوال کا شکار ہوگیا۔ سیاسی قلی تو اپنی خدمات کا معاوضہ لے کر الگ ہو گئے لیکن کرکٹر کو سیاست کے ایورسٹ پر الٹا لٹکتا چھوڑ گئے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ اس کرکٹر نے حالات کی نوعیت کا احساس کرتے ہوئے خود کو سیدھا کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے مزید ایسے قدم اٹھائے جنھوں نے اُسے مزید الٹا لٹکا دیا، اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ میری رائے میں کرکٹر کو چاہیے کہ اپنی نظر اور فکر میں وسعت پیدا کرے اور اپنی پارٹی کے نام نہاد رہنماؤں سے چیخ چیخ کر یہ کہنے کے بجائے کہ ’’ مجھے نکالو، مجھے نکالو‘‘ سکون سے بیٹھ کراپنی ذہنی، جسمانی اور فکری قوتوں کو مجتمع کرے، ملکی مسائل کا تجزیہ کرے اور اُن کے حل پر توجہ مرکوز کرے۔ اس معاملے میں کرکٹر کو نیلسن منڈیلا کو اپنا رول ماڈل بنانا چاہیے۔
نسلی امتیاز کے خلاف مسلح جدوجہد کرنے والے نیلسن منڈیلا 27 برس تک جیل میں رہے لیکن رہا ہونے کے بعد پُر تشدد طرز کو خیر باد کہہ دیا۔ دنیا بھر میں اُن کے اس طرز عمل کی پذیرائی ملی اور آج نیلسن منڈیلا کا نام دنیا بھر میں اور جنوبی افریقہ میں ایک مدبر کا نام ہے۔منڈیلا کے اس طرز عمل کا نتیجہ یہ نکلا کہ 1993 میں انھیں ’’ امن کا نوبل پرائز‘‘ دیا گیا اورہر سال 18جولائی کو، اقوام متحدہ کے زیر اہتمام،دنیا بھر میں’’ یوم منڈیلا‘‘ منایا جاتا ہے۔
اب تک کے طرز عمل نے، نہ صرف خان صاحب کے لیے مشکلات میں اضافہ کیاہے بلکہ اُن کی رفیقہ حیات اور بہنوں تک کو جیل پہنچا دیا جو کسی طور بھی پسندیدہ بات نہیں۔ بے اصولی کی سیاست میں کسی فارم کا کوئی نمبر نہیں ہوتا ہے۔
پاکستان کی سیاست میں بے اصولی ہی اصول ہے، لہٰذا، انھیں اس حقیقت کو تسلیم کر لینا چاہیے۔ انھیں ضد اور مستقل مزاجی میں فرق کو بھی سمجھنا چاہیے۔لاتعداد افراد نے جیل سے کامیاب تحریکیں چلائی ہیں۔ نہایت عمدہ کتابیں لکھی ہیں، شاعری کی ہے اور فن پارے تخلیق کیے ہیں۔ انھیں رشید احمد صدیقی کے اُس بیوقوف اور ضدی بچے کا طرز عمل ترک کر دینا چاہیے جو مسجد کے اُسی دروازے سے باہر نکلنے کی جدوجہد کرتا تھا جہاں سے لا کر اُسے بند کیا گیا تھا،اگرچہ مسجد کی تمام دیواریں گر چکی تھیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس نے صارفین کے لیے نیا ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا ہے جس کے ذریعے صارفین کسی بھی پوسٹ پر براہِ راست ویڈیو ردِعمل ریکارڈ کر سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ایکس نے ایڈیٹ شدہ تصاویر کے لیے نیا لیبل متعارف کروانے کا اعلان کردیا
نئے فیچر کو انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر مقبول ری ایکشن ویڈیوز کے تصور سے مشابہ قرار دیا جا رہا ہے جس کا مقصد صارفین کو اپنے خیالات اور تبصروں کے اظہار کے لیے مزید تخلیقی اور بصری طریقہ فراہم کرنا ہے۔
ایکس کے ہیڈ آف پروڈکٹ نکیتا بیئر نے فیچر کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تبصرہ اور رائے کا اظہار ایکس کی بنیادی خصوصیات میں شامل ہے اور بعض اوقات خیالات کے اظہار کا بہترین طریقہ ویڈیو ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب صارفین ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ کے ذریعے کسی بھی پوسٹ پر فوری ویڈیو ردعمل دے سکیں گے۔
فیچر کیسے کام کرتا ہے؟صارفین کو کسی پوسٹ کے نیچے موجود ری پوسٹ بٹن پر کلک کرنا ہوگا جہاں انہیں ویڈیو ری ایکشن ریکارڈ کرنے کا آپشن ملے گا۔
مزید پڑھیے: سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کو ایک ہفتے میں دوسری بار عالمی سطح پر تکنیکی خرابی کا سامنا
ابتدائی مرحلے میں یہ سہولت صرف آئی او ایس صارفین کے لیے دستیاب کی گئی ہے۔
ویڈیو ریکارڈنگ کے دوران اصل پوسٹ پس منظر میں نظر آتی ہے جبکہ صارف اپنی رائے یا ردعمل ویڈیو کی صورت میں ریکارڈ کر سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کے دوران ویڈیو کو عارضی طور پر روکنے اور دوبارہ شروع کرنے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔
ویڈیو مکمل ہونے کے بعد صارف اسے پوسٹ کرنے سے قبل دیکھ اور جانچ بھی سکتا ہے۔
مختلف ڈسپلے موڈزنئے فیچر میں متعدد ویژول آپشنز شامل کیے گئے ہیں۔
پکچر اِن پکچر: ویڈیو اصل پوسٹ کے اوپر نظر آتی ہے۔
اسپلٹ اسکرین : اسکرین 2 حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے، ایک جانب صارف اور دوسری جانب اصل پوسٹ۔
مزید پڑھیں: انسٹاگرام کا نیا فیچر ’انسٹاگرام میپ‘، اسنیپ چیٹ کو ٹکر دینے کی کوشش
فل اسکرین میڈیا: اصل پوسٹ کے متن کو چھپا کر صرف تصویر یا ویڈیو پر توجہ مرکوز کی جا سکتی ہے۔
گرین اسکرین: پس منظر تبدیل یا ہٹانے کی سہولت۔
صارفین ویڈیو کے سائز اور اس کی پوزیشن کو بھی اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کر سکتے ہیں۔
بیرونی ایڈیٹنگ ٹولز کی ضرورت ختمایکس کے مطابق اس فیچر کی بدولت صارفین کو ویڈیوز ڈاؤن لوڈ کرنے، الگ سے ایڈیٹنگ کرنے یا پیچیدہ ورک فلو اختیار کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی کیونکہ بیشتر بنیادی ایڈیٹنگ سہولیات ایپ کے اندر ہی دستیاب ہوں گی۔
صارفین کا ردعملفیچر کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔
کئی صارفین نے اسے ایکس کے لیے مثبت پیشرفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ویڈیو ری ایکشنز پلیٹ فارم پر گفتگو کو زیادہ مؤثر اور دلچسپ بنائیں گے۔
ایک صارف نے لکھا کہ ’یہ شاندار فیچر ہے، ایکس پر تبصرے اور اظہارِ خیال کے لیے یہی چیز درکار تھی‘۔
تاہم بعض صارفین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس سے ایکس بھی دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی طرح ہو جائے گا۔
ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ ’ فیچر دلچسپ تو ہے لیکن امید ہے کہ ایکس فیس بک یا یوٹیوب جیسا پلیٹ فارم نہیں بن جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے: انسٹاگرام کا نیا فیچر ‘انسٹنٹس’ متعارف: غیر فلٹر شدہ اور عارضی تصاویر کا نیا تجربہ
ماہرین کے مطابق ویڈیو ری ایکشنز کا یہ نیا فیچر ایکس کو روایتی ٹیکسٹ بیسڈ پلیٹ فارم سے بڑھ کر ایک ملٹی میڈیا اور ویڈیو سینٹرک سوشل نیٹ ورک میں تبدیل کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ ایکس ایکس کا نیا فیچر