اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیاں نے کہا ہے کہ ٹیکس ریٹ غلط ہیں انہیں ٹھیک کرنا چاہئے، زیادہ آمدن والوں سے ٹیکس نہ لے پائے تو تنخواہ داروں کو شامل کر لیا جو بتا رہے ہیں سسٹم کیسے ٹھیک  کرنا ہے، وہی ٹیکس نہیں دیتے، حکومت کو پتا ہے کہ بعض چیزوں پر ٹیکس ریٹ کم ہونا چاہئے۔ تقریب سے خطاب کرتے انہوں نے کہا کہ اس سال ٹیکس ہدف 13 ہزار ارب روپے سے زیادہ ہے یہ ٹیکس ہدف پچھلے سال سے40 گنا زیادہ ہے، اس وقت ٹیکس گیپ دو ہزار ارب روپے سے زائد ہے۔ ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ ٹیکس نیٹ میں کم لوگ آتے ہیں۔ چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ پاکستان میں بہت سارے لوگ ٹیکس ادا ہی نہیں کرتے، ان لوگوں سے ٹیکس لیں گے جو ٹیکس نہیں دے رہے۔ پاکستان غریب ملک ہے ہمارے لوگوں کی ٹیکس انکم ہی نہیں، 50 فیصد لوگوں کی آمدنی اتنی ہے کہ وہ ٹیکس نیٹ میں نہیں آتے، پاکستان میں 40 لاکھ لوگ ہیں جن کے گھروں میں ائرکنڈیشنر لگا ہوا ہے۔ ٹیکس دینے اور ٹیکس لینے والے دونوں کے بہت مسائل ہیں۔ سسٹم کا ڈیزائن 5 فیصد لوگوں کیلئے بنایا گیا ہے، عام لوگوں اور تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کو ٹھیک کرنا چاہئے۔ پاکستان اوور ٹیکس ملکوں میں نہیں آتا، انڈیا میں گڈز پر سیلز ٹیکس صوبوں اور پاکستان میں وفاق کے پاس ہے۔ پاکستان میں ایجوکیشن پروڈکشن سسٹم ناکام ہو چکا ہے۔ آج پاکستان تعلیم میں وہاں پہنچا ہے جہاں فرانس 1960ء میں پہنچا تھا، کیا پاکستان 1960ء والے فرانس کے مقام تک پہنچ گیا ہے تو جواب ہے نہیں، ایسا قانون لا رہے ہیں کہ ٹیکس ریٹرنز جمع نہیں کرائے تو کمائی سے خریداری مشکل ہو جائے گی۔ وفاق نے دو وزارتیں اور کئی محکمے بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ فنانس منسٹر بہت باریکی سے کام کر رہے ہیں کچھ پوسٹیں ختم ہو گئیں کچھ مزید ختم ہوں گی، مستقبل میں بھرتی ہونی تھی وہ بھی نہیں ہو گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: پاکستان میں

پڑھیں:

بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی

سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
  • چینی چڑیا گھر میں جانور گرمی کی شدید لہر سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن