اسرائیل کی غزہ میں جاری نسل کشی کو واشنگٹن کی پشت پناہی حاصل ہے، حافظ نعیم الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2025 GMT
لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کاکہنا ہےکہ اسرائیل کی غزہ میں جاری نسل کشی کو واشنگٹن کی پشت پناہی حاصل ہے، امریکا اسلامی ممالک کے حکمرانوں، ڈکٹیٹروں اور بادشاہتوں کو سپورٹ کرتا ہے۔
منصورہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اسلامی ممالک میں موجود امریکی ڈکٹیٹر اپنے مفادات کے لیے مسلمانوں کے مستقبل کی سودے بازی کرتے ہیں، اسلامی ملکوں کے حکمرانوں نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مکمل خاموشی اختیار کرلی ہے۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں حکومت اور اپوزیشن امریکا کی طرف دیکھ رہی ہے، اس کے برعکس جماعت اسلامی عوام کے حقوق کے لیے احتجاجی تحریک کو ازسر نو منظم کرنے کی تیاری کررہی ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ آئی پی پیز کے نام پر حکمرانوں نے ملک کو لوٹ لیا ہے، مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی(پی پی پی) اور تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے آئی پی پیز پر دست شفقت رکھا ہے، ہم ملک بھر میں مہنگی بجلی کے خلاف 17جنوری کو مختلف مقامات پر مظاہرے کرینگے۔
TagsImportant News from Al Qamar.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔