تعمیراتی کام کروانے والوں کیلئے اچھی خبر ،سیمنٹ کی قیمت میں کمی
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2025 GMT
سیمنٹ کی ریٹیل قیمت میں گزشتہ ہفتے مسلسل دوسری مرتبہ کمی کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے ۔
ادارہ شماریات کے اعدادوشمار کے مطابق 9 جنوری کو ختم ہونے والے ہفتے میں ملک کے شمالی شہروں میں سیمنٹ کی فی بوری اوسط ریٹیل قیمت 1405 روپے ریکارڈ کی گئی جوپیوستہ ہفتے کے مقابلے میں 0.71 فیصد کم ہے، پیوستہ ہفتے میں ملک میں سیمنٹ کی فی بوری اوسط ریٹیل قیمت 1415 روپے ریکارڈکی گئی تھی۔
اعدادوشمار کے مطابق 9 جنوری کو ختم ہونے والے ہفتے میں ملک کے جنوبی شہروں میں سیمنٹ کی فی بوری اوسط ریٹیل قیمت 1385 روپے ریکارڈکی گئی جو پیوستہ ہفتے میں بھی 1385 روپے تھی ۔گزشتہ ہفتے کے دوران اسلام آباد میں سیمنٹ کی فی بوری اوسط ریٹیل قیمت 1376، راولپنڈی 1371، گوجرانوالہ 1430، سیالکوٹ 1410، لاہور 1444، فیصل آباد 1410، سرگودھا 1393، ملتان 1413، بہاولپور 1450، پشاور 1400 اور بنوں میں 1360 روپے ریکارڈکی گئی ۔
اسی طرح گزشتہ ہفتے کےدوران کراچی میں سیمنٹ کی فی بوری اوسط ریٹیل قیمت 1340 روپے، حیدرآباد 1340 ، سکھر 1450، لاڑکانہ 1400، کوئٹہ 1435 اور خضدار میں 1347 روپے ریکارڈکی گئی ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔