وزیراعظم کی وفاقی حکومت کے کم لاگت گھروں کے جاری منصوبوں کو جلد مکمل کرنے کی ہدایت، ہر شہری کو کم لاگت رہائش کی فراہمی کیلئے حکومت ہر ممکن اقدامات کر ے گی، محمد شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 13 جنوری2025ء) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وفاقی حکومت کے کم لاگت گھروں کے جاری منصوبوں کو جلد مکمل کرنے ،سرمایہ کاری بڑھانے کیلئے نجی شعبے سے اشتراک اور ہاؤسنگ کے منصوبوں کی تعمیر کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنانے اور تعمیراتی منصوبوں کو معینہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے ہر شہری کو کم لاگت رہائش کی فراہمی کیلئے حکومت ہر ممکن اقدامات کر ے گی۔
پیر کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِصدارت وزارت ہاؤسنگ کے جاری منصوبوں پر جائزہ اجلاس یہاں منعقد ہوا۔ وزیراعظم نے اجلاس کے دوران ہدایت کی کہ سرکاری ملازمین اور عوام کیلئے تعمیر کئے جانے والے منصوبوں کیلئے بین الاقوامی شہرت یافتہ تعمیراتی کمپنیاں منتخب کی جائیں، تعمیراتی منصوبوں کیلئے کمپنیوں کا انتخاب شفاف طریقہ کار اور میرٹ پر کیا جائے۔(جاری ہے)
تعمیراتی منصوبوں کو معینہ مدت میں مکمل کیا جائے۔ اجلاس کے دوران وزیراعظم کو پی ڈبلیو ڈی اور دیگر غیر فعال اداروں کی تحلیل کے حوالے سے اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ وزیراعظم نے پی ڈبلیو ڈی اور دیگر غیر فعال اداروں کی تحلیل سے کرپشن میں کمی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملازمین کو موجودہ سرکاری گھروں کی الاٹمنٹ کے نظام کی ڈیجیٹائیزیشن خوش آئند ہے، پاکستان کے ہر شہری کو کم لاگت رہائش کی فراہمی کیلئے ہر ممکن اقدام کریں گے،شہریوں کو کم لاگت گھروں کی فراہمی کے منصوبوں میں کرپشن کی کمی کیلئے اصلاحات کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوششوں سے پاکستان کا عالمی منظر نامہ پر تشخص بحال ہوا ہے، ملک میں بین الاقوامی کرکٹ، دیگر کھیل اور عالمی کانفرنسز کا انعقاد ہو رہا ہے، بیرون ملک سے آئے مہمانوں کیلئے ملک میں بین الاقوامی معیار کے ہوٹلز، ہسپتال اور دیگر سہولیات قائم کی جائیں گی۔ وزیراعظم نے وزارت ہاؤسنگ سے بین الاقوامی معیار کی سہولیات کیلئے جامع پلان طلب کر لیا۔ وزیراعظم نے قومی ہاؤسنگ پالیسی کی تشکیل مارچ تک مکمل کرکے منظور کرانے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ وزارت کے تحت جاری عوامی رہائشی منصوبوں کو جلد مکمل کیا جائے تاکہ ورکنگ کلاس کو جلد کم لاگت رہائش میسر ہو۔ وزیراعظم نے وزارت ہائوسنگ و دیگر وزارتوں میں غیر فعال اداروں کی تحلیل و دیگر اصلاحات کیلئے ایک کمیٹی قائم کرنے اور اس کمیٹی کو نہ صرف وزارت ہائوسنگ بلکہ دیگر وزارتوں کو بھی اصلاحات میں ضروری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس میں وزارت ہاؤسنگ نے وزیراعظم کو وزارت کے مختلف اداروں میں جاری اصلاحات پر پیشرفت اور پالیسی اقدامات سے آگاہ کیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ قومی ہاؤسنگ پالیسی 2001 میں ترامیم کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز سے مشارت مکمل کرلی گئی ہے اور وزیراعظم کی ہدایات کی روشنی میں مارچ 2025 تک اس کی حتمی منظوری کا عمل مکمل کر لیا جائے گا۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ سرکاری ملازمین کو گھروں کی الاٹمنٹ اور کرایوں کے حصول کے نظام کو ڈیجیٹل کر دیا گیا ہے جس سے کرپشن کا خاتمہ ممکن ہوگا اور نظام میں شفافیت آئے گی۔ وزیراعظم کو پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی کے تحت جاری اور مستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اس وقت کچلاک کوئٹہ میں 630 کم لاگت رہائشی یونٹس جبکہ اسلام آباد میں 4112 رہائشی یونٹس پر کام تیزی سے جاری ہے۔ وزیراعظم نے ان منصوبوں کی جلد تکمیل اور تھرڈ پارتی ویلیڈیشن کی ہدایت کی۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ پشاور میں 5728 کم لاگت رہائشی یونٹس پر جلد جبکہ مستقبل قریب میں راولپنڈی اور اسلام آباد میں 5600 رہائشی یونٹس پر کام شروع کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے تمام رہائشی منصوبوں میں اچھی شہرت کی تعمیراتی کمپنیوں کی خدمات لینے کی ہدایت کی۔وزیرِ اعظم کو فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہائوسنگ اتھارٹی کے امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی کی ڈیجیٹائیزیشن اور اصلاحات پر بھی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ آن لائن ادائیگی، شکایتوں کے ازالے کیلئے ڈیجیٹل نظام، ون ونڈو آپریشن، رئیل ٹائم مانیٹرنگ، جیو ٹیگنگ و دیگر اصلاحات سے نظام میں شفافیت اور تیزی لانے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔اجلاس کو اتھارٹی کی جانب سے اسلام آباد میں بین الاقوامی معیار کی سہولیات بشمول فائیو سٹار ہوٹل، ہسپتال، آئی ٹی پارک، اپارٹمنٹ کمپلیکسز اور بین الاقوامی معیار کے سکول کی تعمیر کے منصوبوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔ وزیرِ اعظم نے اس حوالے سے جلد تعمیراتی لاگت اور درکار وقت کے ساتھ ایک جامع لائحہ عمل پیش کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس میں وفاقی وزراء ریاض حسین پیرزادہ، احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بین الاقوامی معیار کرنے کی ہدایت رہائشی یونٹس کی ہدایت کی منصوبوں کی کے منصوبوں اسلام آباد منصوبوں کو کی فراہمی اجلاس کو کیا جائے کو جلد
پڑھیں:
وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
سٹی 42:وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات،وزیر اعظم نے کہا بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چینی کمپنی فیمسنFAMSUN کے چیف ایگزیکٹو افسر جیک چین Jack Chen کی قیادت میں وفد کی ملاقات ہوئی ۔ وزیراعظم نے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا
وزیر اعظم نے کہا پاکستان اور چین مثالی دوست ہیں، جن کے درمیان معاشی شراکت داری اور دوستانہ تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے یہ دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔وزیر اعظم نے چینی کمپنی کا پاکستان میں اجناس کے سٹوریج کے مراکز کو اسٹیٹ آف آرٹ مراکز میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا خیر مقدم کیا۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اس منصوبے سے ملک میں زراعت کے سیکٹر میں جدید ترین ٹیکنالوجی آئے گی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ پاکستان کی افرادی قوت کی ہنر مندی اور تربیت کو ان منصوبوں کا حصہ بنایا جائے۔
جیک چین نے پاکستان میں پرتپاک میزبانی پر وزیراعظم اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیافیمسن کے چیف ایگزیکٹو نے وزیراعظم سے انکے حالیہ دورہء چین کے دوران اپنی ہونے والی ملاقات کا بھی ذکر کیا، جس کے نتیجے میں وہ پاکستان کا دورہ کررہے ہیں اور غذائی تحفظ کے حوالے سے قابل عمل منصوبے پر بات چیت کی جارہی ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
جناب جیک چین نے کہا کہ فیمسن پاکستان میں غذائی تحفظ کے حوالے سے بہتر سٹوریج مراکز، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور تربیت فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔بریفنگ میں بتایا کہ فیمسن پاکستان میں گرین سائلوز کے قیام کے حوالےسے ڈیمانسٹریشن سینٹر قائم کرے گی سٹوریج سینٹرز کو جدید گرین سائلوز میں بدلا جائے گا ۔فیمسن اور گرین پاکستان انیشئیٹو کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں
ملاقات میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے۔فیمسن زراعت، جانوروں کی خوراک اور فوڈ پراسیسنگ کے حوالے سے چین کی بڑی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار