مہنگائی کم ہونے کے حکومتی دعووں کی قلعی کھل گئی
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2025 GMT
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 جنوری2025ء) مہنگائی کم ہونے کے حکومتی دعووں کی قلعی کھل گئی، سبزیوں کی قیمتیں 700 روپے سے بھی اوپر چلی گئیں، بیشتر پھلوں کی قیمتیں بھِی 300 روپے سے اوپر چلی گئیں۔ تفصیلات کے مطابق صوبائی دارالحکومت لاہور میں مہنگائی کا جن بے قابو ہو گیا، سبزیوں اور پھلوں کے دام غریب کی جیب پر بھاری پڑنے لگے۔ سرکاری نرخ نامے میں چار سبزیوں کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا، قیمتوں میں اضافے کے بعد سبز مصالحہ جات کے نرخ آسمان سے باتیں کرنے لگے۔
لاہور کی مارکیٹوں میں پیاز 150، ٹماٹر 160، لہسن 740، ادرک 450 میں فروخت ہو رہا ہے جبکہ پالک 50 روپے، میتھی 80 ، بینگن 80 اور آلو 120 روپے کلو میں بیچے جارہے ہیں۔ پھلوں کی خریداری بھی عوام کیلئے سوہان روح بن گیا، سیب کی قیمت 320 ، کیلا 220 درجن اور امرود 220 روپے فی کلو پر جا پہنچے جبکہ موسمی پھل بھی شدید مہنگے ہو گئے، کینو 280 سے 350 روپے تک کی قیمت میں فروخت کیے جارہے ہیں۔(جاری ہے)
دوسری جانب برائلر کی قیمت میں 4 روپے کی معمولی کمی ہوئی یے، کمی کے بعد برائلر 591 روپے کلو میں دستیاب ہے جبکہ انڈوں کی قیمت 300 روپے فی درجن پر مستحکم ہے۔ گلی محلوں ، منڈی اور پوش علاقوں میں نرخ ناموں کے برعکس من مانی قیمتوں پر سبزیاں ، پھل اور چکن کی فروخت سے عوام کی پریشانی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے ، عوام نے حکومت سے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں کنٹرول کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کی قیمت
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔