Islam Times:
2026-07-24@15:11:07 GMT

نہ این ار او لیں گے، نہ ہی این ار او دیں گے، شوکت یوسفزئی

اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2025 GMT

نہ این ار او لیں گے، نہ ہی این ار او دیں گے، شوکت یوسفزئی

پی ٹی آئی رہنماء کا کہنا تھا کہ 31 جنوری تک مذاکرات جاری ہیں، اس کے بعد مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ عمران خان کریں گے۔ اگر جوڈیشل کمیشن پر پیش رفت ہو گئی تو مذاکرات جاری رکھنے کا امکان ہو سکتا ہے بصورت دیگر مذاکرات کا دی اینڈ ہو جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک انصاف رہنماء شوکت علی یوسفزئی نے حکومت اور تحریک انصاف کے مابین مذاکرات کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس کا دی اینڈ کس صورت میں ہو سکتا ہے؟۔ 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس کیس کا فیصلہ آج تیسری بار مؤخر ہونے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنماء شوکت یوسفزئی نے کہا کہ 190 ملین پاؤنڈز کیس کا فیصلہ تیسری مرتبہ مؤخر ہونے پر مایوسی ہوئی ہے، ایسا لگتا ہے کہ حکومت این ار او لینے کے چکر میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم لیکن یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ نہ این ار او لیں گے نہ ہی این ار او دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 31 جنوری تک مذاکرات جاری ہیں، اس کے بعد مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ عمران خان کریں گے۔ اگر جوڈیشل کمیشن پر پیش رفت ہو گئی تو مذاکرات جاری رکھنے کا امکان ہو سکتا ہے بصورت دیگر مذاکرات کا دی اینڈ ہو جائے گا۔

شوکت یوسفزئی نے کہا کہ 190 ملین پاؤنڈز کا فیصلہ مؤخر کرنا قانون و انصاف کا مذاق ہے، یہ عدالتی سسٹم پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اعلیٰ عدلیہ کو اس کا سخت نوٹس لینا چاہیے۔ اس طرح ملک میں انصاف و قانون ختم ہوتا نظر آرہا ہے۔ پی ٹی آئی رہنماء کا کہنا تھا کہ  وزراء کے بیانات کے پیچھے کوئی ہے جو مذاکرات کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے۔  فیصل واوڈا معلوم نہیں کب سے جوتشی  بن گئے ہیں، وہ آئے روز پیش گوئیاں کرتے ہیں۔  ہمارے ساتھ ہوتے تھے تو کوئی پیش گوئی نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ  شہباز اسپیڈ حکومت، عوام، اسٹیبلشمنٹ اور ملک پر بوجھ ہے۔  ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالنا ہے تو پی ایم ایل این اور پیپلز پارٹی سے جان چھڑانا ہوگی۔  شریف اور زرداری گروپ  نے سیاست نہیں بزنس کیا ہے۔ عوام رُل رہے ہیں، صرف قرضے ہی بڑھ رہے ہیں۔

اپنے بیان میں انہوں نے مزید کہا کہ 2 برس میں 27 ہزار ارب روپے کا قرضہ لیا گیا۔ آئی پی پیز کو اربوں روپے دیے گئے، اس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔ یہ آئی پی پیز پاکستان کے کن کن سیاستدانوں کی ہیں۔ آئی پی پیز کے ساتھ اتنے غلط معاہدے کس نے کیے اور کیوں کیے، وقت آگیا ہے کہ ان تمام لوگوں کو جو سیاست کی آڑ میں بزنس کرتے رہے، انہیں  ایکسپوز کیا جائے۔ شوکت یوسفزئی نے کہا کہ ملک میں صرف اعلیٰ عدلیہ سے امیدیں رہ گئی ہیں، اگر ان کی طرف سے بھی مایوسی ہوئی  تو پھر اللہ ہی حافظ ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: شوکت یوسفزئی یوسفزئی نے نے کہا کہ انہوں نے کا فیصلہ

پڑھیں:

اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام

پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔

Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026

انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔

دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا

انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔

It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026

ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان

پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔

انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور

صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔

انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران
  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی