لاس اینجلس، تیز ہواؤں کیوجہ سے اس ہفتے آگ کے مزید شدت اختیار کرنیکا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2025 GMT
آگ سے اب تک 25 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ متعدد لاپتا ہیں، آگ کے باعث 12 ہزار سے زائد مکان اور عمارتیں راکھ کا ڈھیر بن گئی ہیں، جبکہ 2 لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور ہوگئے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس میں لگی آگ کا تیز ہواؤں کی وجہ سے مزید تباہ کن شدت اختیار کرنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی ریاست کیلیفورنیا میں لگی آگ پر ایک ہفتہ گزر جانے کے بعد بھی قابو نہیں پایا جاسکا ہے۔ مختلف مقامات پر لگی آگ سے اب تک تقریباً 40 ہزار ایکڑ رقبہ جل کر خاکستر ہوگیا ہے۔ آگ سے اب تک 25 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ متعدد لاپتا ہیں، آگ کے باعث 12 ہزار سے زائد مکان اور عمارتیں راکھ کا ڈھیر بن گئی ہیں، جبکہ 2 لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور ہوگئے۔ امریکی میڈیا کے مطابق 12 ہزار سے زائد فائر فائٹرز، ساڑھے 1100 فائر انجن، 60 طیارے اور 143 واٹر ٹینکر آگ بجھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں، جو اب تک آگ پر قابو پانے میں ناکام رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ لاس اینجلس میں 3 مختلف مقامات پر لگی آگ کا تیز ہواؤں کی وجہ سے اس ہفتے مزید تباہ کن شدت اختیار کرنے کا خدشہ ہے۔ لاس اینجلس اور ونچورا کاؤنٹیز میں 125 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں، جس کی وجہ سے جلتی ہوئی چیزیں اڑ کر گرنے سے آگ مزید پھیلنے لگی ہے۔ دوسری جانب جلے ہوئے مکانوں اور عمارتوں کے ملبے میں ممکنہ طور پر موجود افراد کی بھی تلاش جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ آگ ممکنہ طور پر Palisades کے مقبول ہائیک ٹریل سے شروع ہوئی، آگ کی وجوہات جاننے کیلئے تحقیقات جاری ہیں۔ کیلیفورنیا فائر ڈیپارٹمنٹ کے نائب سربراہ نے کہا ہے کہ ہمیں قدرت کی جانب سے رحم کی ضرورت ہے، ہمارے پاس فائر فائٹر ہیں، پانی ہے، ہمیں بس وقت چاہیئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: لاس اینجلس لگی ا گ
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔