گل زمین فٹبال کپ ، سیمی فائنل کی تیاریاں مکمل، حیدری بلوچ نے سندھ بلوچ کلب کو 2-1سے میدان بدر کردیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2025 GMT
کراچی : گل زمین فٹبال کپ کے دوران کھیلے گئے میچ میں کھلاڑی فتح کے حصول کے لیے جدوجہد کرتے ہوئے
کراچی (رپورٹ: عارف میمن) پیغام پاکستان اور مسلم یوتھ لیگ کے زیر اہتمام 15روزہ ’’گل زمین فٹبال کپ‘‘ کا سیمی فائنل آج ککری گرائونڈ میں کھیلا جائے گا۔ سیمی فائنلکی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ بڑے میچز میں شائقین کے لیے بھی بڑے انتظامات کیے گئے ہیں۔ لیاری کے علاوہ حیدری اسپورٹس گرائونڈ ، محمدی اسپورٹس گرائونڈ ملیر کے کوالفائیڈ کھلاڑیوں بھی سیمی فائنل میں شامل ہوں گے۔ علاوہ ازیں آج ہونے والے میچز میں تمام ٹیموں نے مجموعی طور پر 21گول کیے جبکہ بلوچ مجاہد 8گول بناکر ایونٹ میں نمایاں رہی۔ ککری گرائونڈ لیاری میں میچز کے دوران پہلا میچ حیدری بلوچ بمقابلہ سندھ بلوچ ہوا جس میں حیدری بلوچ نے 2-1 سے جیت اپنے نام کی جبکہ دوسرا میچ بلوچ ایلیون بمقابلہ وہاب الیون کھیلا گیا جس میں بلوچ الیون نے 1-0 سے حریف ٹیم کو شکست دے دی۔ اسی طرح سے محمدی اسپورٹس گرائونڈ ملیر ہونے والے میچز کے دوران پہلا میچ جام الیون بمقابلہ لال الیون ہوا جس میں جام الیون نے 4-1سے مدمقابل ٹیم کو چت کرکے جیت اپنے نام کی۔ دوسرا میچ دلبود محمدن بمقابلہ صاحبداد اسٹار ہوا جس میں دلبود نے 1-0سے حریف ٹیم کو شکست دے دی۔ جبکہ حیدری اسپورٹس گرائونڈ میں کھیلے گئے میچز کے دوران پہلا میچ بسم اللہ اسپورٹس بمقابلہ جلال مراد ہوا جس میں بسم اللہ اسپورٹس نے 3-1 سے جلال مراد کو شکست دے دی۔ دوسرا میچ بلوچ مجاہد بمقابلہ اللہ داد محمدن کھیلا گیا، بلوچ مجاہد نے بہترین کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے 8 گول کا پہاڑ کھڑا کردیا جبکہ اللہ داد ٹیم ایک گول بھی نہ کرسکی اور ہار مقدر بنی۔ ’’گل زمین فٹبال کپ‘‘ تین مختلف گرائونڈز میں کھیلا جارہا ہے جس میںایک ہزار سے زائدکھلاڑی شریک ہیں جبکہ ایونٹ میں96ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔ یہ میچز 15روز تک جاری رہیں گے اور فائنل جیتنے والوں کے لیے خوبصورت ٹرافی کے علاوہ لاکھوں کے نقد انعامات بھی رکھے گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسپورٹس گرائونڈ سیمی فائنل ہوا جس میں کے دوران
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔