پی ٹی آئی نے ایوان بالامیں احتجاج پر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سے معافی مانگ لی
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2025 GMT
پی ٹی آئی نے ایوان بالامیں احتجاج پر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سے معافی مانگ لی WhatsAppFacebookTwitter 0 17 January, 2025 سب نیوز
اسلام آباد:ایوان بالا میں پی ٹی آئی اراکین سینیٹ کی قوائدکی خلاف ورزی کا معاملہ،پی ٹی آئی اراکین کی جانب سے سینیٹر علی ظفر نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سے معذرت کر لی ۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی ائی اراکین نے بدھ کے روز ایوان بالا میں شور شرابا کیا تھا،
ڈپٹی چیرمین سینیٹ نے پی ٹی ائی کے 4اراکین کی رکنیت معطلی کی سمری تیار کرائی تھی ۔
ذرائع کے مطابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے پی ٹی آئی اراکین کو آخری وارننگ دے دی ۔
سینیٹر فلک ناز چترالی اور عون عباس بپی کو آخری وارننگ دی گئی ،
ذرائع کے مطابق سینیٹر علی ظفر نے ڈپٹی چیرمین سینیٹ کے چیمبر میں جا کر معذرت کی ۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :