پی ٹی آئی احتجاج: 3 اہلکار جاں بحق 106 زخمی جبکہ شہری محفوظ رہے، وزارتِ داخلہ کی سینیٹ میں رپورٹ پیش
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2025 GMT
---فائل فوٹو
سینیٹ کے اجلاس میں وقفۂ سوالات کے دوران وزارتِ داخلہ نے حالیہ پی ٹی آئی کی جانب سے اسلام آباد میں کیے گئے احتجاج پر تحریری جواب جمع کروا دیا۔
وزارتِ داخلہ کے تحریری جواب کے مطابق اسلام آباد میں 24 تا 27 نومبر امن و امان کی صورتحال کے باعث قانون نافذ کرنے والے 3 اہلکار جاں بحق ہوئے، حالیہ احتجاج میں کسی شہری کے جاں بحق ہونے کی اطلاع نہیں ملی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 106 اہلکار زخمی ہوئے جبکہ احتجاج میں کسی بھی شہری کے زخمی ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
وزارتِ داخلہ کے مطابق پُرتشدد مظاہرین کے خلاف 17 فوجداری مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
سینیٹ اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی کے سینیٹر مسرور نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی سمندر میں ڈوب کر مر گئے۔
جواب میں بتایا کہ جون 2023ء میں یونان کشتی حادثے پر ایف آئی اے نے 175 انکوائریز اور 197 مقدمات درج کیے، ایف آئی آرز میں 271 انسانی اسمگلروں کو نامزد کیا گیا، 164 اسمگلرز کو گرفتار کیا گیا اور 194 کا چالان کیا گیا۔
وزارتِ داخلہ کے تحریری جواب میں مزید بتایا گیا کہ 5 مقدمات میں سے 4 انسانی اسمگلروں نے اقبال جرم کیا ہے، انسانی اسمگلروں سے ملے ہوئے ایف آئی اے افسران کے خلاف کارروائی کی گئی جبکہ 38 ایف آئی اے افسران کو ملازمت سے نکالا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد انتظامیہ نے غیر قانونی اجتماع روکنے کیلئے تیاریاں شروع کر دیں، پولیس کو آنسو گیس شیل، ربر کی گولیاں اور اینٹی رائٹ کٹس مہیا کر دی گئیں۔
تحریری جواب کے مطابق دسمبر 2024ء یونان کشتی حادثے کے بعد 182 انسانی اسمگلرز کو گرفتار کیا، ان میں 16 انسانی اسمگلرز دسمبر میں یونان کشتی حادثے میں ملوث تھے، بدنام زمانہ گینگ والے 6 انسانی اسمگلرز اور 15 ماسٹر مائنڈ کو گرفتار کیا گیا، 253 ملین روپے کی جائیداد اور اکاؤنٹس کو ضبط کیا گیا، بیرون ملک رہنے والےانسانی اسمگلرز کے خلاف 35 ایم ایل اے درخواستیں بھیجی ہیں۔
تحریری جواب میں وزارتِ داخلہ نے کہا ہے کہ ایف آئی اے کے 4 افسران کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئیں اور 20 کو گرفتار کیا گیا، 30 ایف آئی اے افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کی گئی جبکہ 19 کو شوکاز نوٹس جاری کیے۔
اجلاس کے دوران پی ٹی آئی ارکان کی جانب سے احتجاج اور نعرے بازی کی گئی۔
بعد ازاں سینیٹ کا اجلاس 20 جنوری شام 4 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: انسانی اسمگلرز کو گرفتار کیا تحریری جواب ایف آئی اے ایف آئی ا کے خلاف کیا گیا
پڑھیں:
غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے ڈیولوشن نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت غیر ضروری وزارتیں اور محکمے ختم کر کے سالانہ 4 سے 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت کر سکتی ہے۔ کمیٹی نے زور دیا کہ وفاق آئین کے مطابق محدود دائرۂ اختیار میں کام کرے اور اٹھارہویں آئینی ترمیم پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
سینیٹرضمیر حسین کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد اختیارات کی صوبوں کو منتقلی، وفاقی حکومت کی تنظیمِ نو اور آئینی اداروں کی فعالیت سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران ارکان نے کہا کہ وفاقی حکومت کو غیر ضروری وزارتوں اور اداروں کا ازسرنو جائزہ لینا چاہیے تاکہ قومی وسائل کا ضیاع روکا جا سکے۔ کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مشترکہ مفادات کونسل (CCI) کو آئینی تقاضوں کے مطابق فعال بنایا جائے اور اس کے اجلاس باقاعدگی سے منعقد کیے جائیں۔
سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس نہ ہونے سے آئینی تقاضے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو مالی مشکلات سے نکالنے کے لیے حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی ضروری ہے، جبکہ آئی ایم ایف پر انحصار کم کرنے کے لیے وفاقی وزارتوں اور اخراجات کا ازسرِنو جائزہ لیا جانا چاہیے۔
اجلاس میں سینیٹر ضمیر حسین نے کہا کہ سندھ سے روزانہ تقریباً 3 ارب 70 کروڑ روپے مالیت کا تیل نکلتا ہے، جبکہ خیبرپختونخوا بھی تیل و گیس کی پیداوار میں نمایاں حصہ رکھتا ہے، تاہم تیل و گیس پیدا کرنے والے صوبوں کو گزشتہ 16 برس سے ان کا آئینی حق نہیں دیا گیا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ وفاقی حکومت صوبوں کو تیل اور گیس کی مد میں واجب الادا رقوم کیوں ادا نہیں کر رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبوں کو ان کا حصہ نہ دینا آئین اور بہتر طرزِ حکمرانی کے منافی ہے۔
اجلاس کے دوران وزارتِ پیٹرولیم نے آئین کے آرٹیکل 172(3) پر عملدرآمد سے متعلق بریفنگ دی، جبکہ کمیٹی کو آئین کے آرٹیکل 38(جی) سے متعلق بھی رپورٹ پیش کی گئی۔
کمیٹی نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ تیل و گیس سے حاصل ہونے والی آمدن اور اس کی تقسیم کی مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں۔ ارکان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبوں کے آئینی حقوق کا تحفظ، وفاقی نظام کے استحکام اور قومی یکجہتی کے لیے ناگزیر ہے، جبکہ غیر ضروری سرکاری اخراجات اور ڈپلیکیٹ محکموں کا جامع جائزہ لے کر قومی وسائل کی بچت کو یقینی بنایا جائے۔