UrduPoint:
2026-07-24@13:05:13 GMT

بڑی صنعتوں کی پیداوار میں منفی 4 فیصد کمی ہو جانے کا انکشاف

اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2025 GMT

بڑی صنعتوں کی پیداوار میں منفی 4 فیصد کمی ہو جانے کا انکشاف

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 جنوری2025ء) بڑی صنعتوں کی پیداوار میں منفی 4 فیصد کمی ہو جانے کا انکشاف، معاشی بہتری کے حکومتی دعووں کی قلعی کھل گئی، صنعتوں کا پہیہ رک گیا، رواں مالی سال کے دوران بڑی صنعتوں کی پیدوار مسلسل منفی رہی۔ تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخواہ کے مشیر خزانہ و بین الصوبائی رابطہ مزمل اسلم نے ملک کی صنعتی ترقی منفی ہو جانے کا انکشاف کیا ہے۔

صوبائی مشیر خزانہ کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت ایک طرف اڑان پروگرام میں لمبی لمبی اڑان کے دعوے کر رہی ہے جبکہ دوسری طرف ملک کی معیشت کا تختہ نکل گیا ہے۔ مزمل اسلم نے انکشاف کیا ہے کہ وفاقی حکومت کے اپنے جاری کردہ شماریات کے مطابق ملک میں نومبر میں صنعت کی پیداوار منفی 4 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔

(جاری ہے)

جبکہ گزشتہ 5 ماہ میں مجموعی صنعتی پیداوار منفی 1.

2 فیصد ہوگئی۔

وفاقی حکومت کی جانب سے نہ تو اس کامیابی کا اشتہار میڈیا پر آئے گا اور نہ ہی قوم کے نام مبارکباد جاری ہوگی۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخواہ مزمل اسلم نے مہنگائی بارے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی کم نہیں ہوئی ہے بلکہ چیزوں کی قیمتوں میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ دوسری جانب وفاقی ادارہ شماریات نے بڑی صنعتوں کی کارکردگی رپورٹ جاری کردی۔

پہلے 5 ماہ میں بڑی صنعتوں کی پیدوار منفی ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق بڑی صنعتوں کی پیدوار کی جولائی تا نومبر گزشتہ سال کے مقابلے گروتھ منفی 1.25 فیصد رہی، نومبر 2024 میں بھی گزشتہ سال کی نسبت کارکردگی 3.81 فیصد منفی ریکارڈ کی گئی تھی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گاڑیوں کی صنعت 51 فیصد گروتھ کے ساتھ کارکردگی میں نمایاں رہی، نومبر 2024 میں گاڑیوں کی پیداوار میں 89 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق تمباکو 31 فیصد، ٹیکسٹائل کی پیداوار میں 2.28 فیصد بہتری آئی، ملبوسات کے شعبے نے 11.5 فیصد کی شرح سے ترقی کی۔وفاقی ادارہ شماریات نے بتایا کہ فوڈ، بیوریجز، پیپر بورڈ، فارما سیوٹیکل، کمپیوٹر، الیکٹرانکس کی پیداوار میں بہتری آئی ہے جبکہ چمڑے، لکڑی، پیٹرولیم، کیمیکلز، ربڑ، لوہے اور اسٹیل کی پیداوارمیں کمی ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بڑی صنعتوں کے شعبے میں دھاتوں، مشینری، فرنیچر اور فٹ بال سمیت دیگر اشیا کی پیداوار گر گئی۔

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کی پیداوار میں بڑی صنعتوں کی ریکارڈ کی کے مطابق

پڑھیں:

نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا

 

 

بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

Huge crowd of students floods roads of Nashik.

Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY

— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026

ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘  کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔

دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج

یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک

متعلقہ مضامین

  • سٹاک مارکیٹ میں مندی، کاروبار کا منفی رجحان رہا
  • بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے ایک ماہ میں47ارب81کروڑ روپے کی اووربلنگ کا انکشاف
  • حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کے قریبی سکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف