وفاقی حکومت نے بچت اسکیموں پر منافع کی شرح میں ردوبدل کردی
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
اسلام آباد:
وفاقی حکومت نے قومی بچت اسکیموں پر منافع کی شرح میں ردو بدل کردی ہے، جس کے تحت سیونگ اکاؤنٹس پر منافع کی شرح برقرار جبکہ باقی تمام بچت اسکیموں پر منافع کی شرح کم کردی گئی ہے تاہم سروا اسلامک ٹرم اکاؤنٹس اور سروس اسلامک سیونگ اکاؤنٹس پر منافع کی شرح بڑھائی گئی ہے۔
محکمہ قومی بچت نے منافع کی شرح میں ردوبدل کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے، جس کے مطابق قومی بچت اسکیموں پر منافع کی نئی شرح کا اطلاق 28 جولائی سے ہوگا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق اسپیشل سیونگ اکاؤنٹس اور ڈیفنس سیونگ سرٹیفیکیٹ پر منافع کی شرح کم کرکے 10.
نوٹیفکیشن کے مطابق ریگولر انکم سرٹیفکیٹ پر منافع کی شرح کم کرکے 10.68 فیصد، بہبود سیونگ سرٹیفیکیٹ اور پنشنر بینیفٹس اکاؤنٹس پر منافع کی شرح 12.96فیصد، تین ماہ کے شارٹ ٹرم سیونگ سرٹیفیکیٹ پر منافع کی شرح 10.32 فیصد، 6 ماہ کے شارٹ ٹرم سیونگ سرٹیفیکیٹ پر منافع کی شرح10.20 فیصد کردی گئی ہے۔
اسی طرح ایک سال کی مدت کے شارٹ ٹرم سیونگ سرٹیفیکیٹ پر منافع کی شرح 10.14 فیصد کردی گئی ہے جبکہ سیونگ اکاؤنٹس پر منافع کی شرح 9.35 فیصد ہی برقرار رکھی گئی ہے۔
وفاقی حکومت نے ایک سال کی مدت کے سروا اسلامک ٹرم اکاؤنٹس پر منافع کی شرح بڑھا کر 9.94 فیصد، تین سال کی مدت کے سروا اسلامک ٹرم اکاؤنٹس پر منافع کی شرح بڑھا کر10.30 فیصد، 5 سال کی مدت کے سروا اسلامک ٹرم اکاؤنٹس پر منافع کی شرح بڑھا کر 10.80 فیصد اور سروا اسلامک اکاؤنٹس پر منافع کی شرح بڑھا کر 9.94 فیصد کردی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سروا اسلامک ٹرم اکاؤنٹس بچت اسکیموں پر منافع کی فیصد کردی گئی ہے سیونگ اکاؤنٹس سال کی مدت کے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔