کشمیری باقرخانی کیسے تیار کی جاتی ہے اور مہنگائی کی وجہ سے اس کے کاروبار پر کیا اثر پڑا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2025 GMT
کشمیری باقرخانی کشمیر کی اہم سوغات ہے اور کشمیر کے ہر شہر میں تیار کی جاتی ہے۔ عام طور پر کشمیری باقر خانی صبح کے ناشتے میں اور شام کی چائے کے ساتھ کھائی جاتی ہے۔
لوگ کشمیری باقرخانی کو اندرون اور بیرون ممالک اپنے عزیز و اقارب کے لیے بطور تحفہ بھی بھیجتے ہیں، اس کے علاوہ شادی بیاہ کی تقریبات میں بھی دستر خواں کی زینت بنتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر کے علاقے جہاں شادی بیاہ کی دلچسپ قدیم روایات اب بھی زندہ ہیں
باقرخانی تندور میں ہلکی آنچ پر پکاتی جاتی ہے،یہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں مختلف طریقوں سے تیار کی جاتی ہے۔
باقرخانی تیار کرنے میں میدے، انڈے، گھی، تل، خشخاش اور تیل کا استعمال کیا جاتا ہے، جو کھانے میں بہت ہی لزیز ہوتی ہے۔ مزید دیکھیے شاہ زیب افضل کی اس رپورٹ میں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news آزاد کشمیر تندور سوغات شادی بیاہ کشمیری باقرخانی ناشتہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سوغات شادی بیاہ ناشتہ جاتی ہے
پڑھیں:
قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
وفاقی آئینی عدالت میں اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کردیے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ عدالت نے کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا، ماریہ شہباز کم عمر ہے اسے ورغلا کر مذہب تبدیلی کرائی گئی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ عمر کم بھی ہو تو ایک شادی اگر ہوجائے تو قانون میں اس کا حل کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ شادی کیلئے 18 سال کی عمر کا قانون ہے، قانون کی خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، بچی نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے آئینی عدالت تک کہیں نہیں کہا کہ اس کیساتھ زبردستی ہوئی،
آپ کا اسرار ہے تو اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل سے معاونت لے لیتے ہیں۔
عدالت نے مقدمہ کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی، جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔
آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کی والد کو حوالگی کی درخواست خارج کی تھی، عدالت نے قرار دیا تھا کہ بچی کے تنسیخ نکاح کیلئے سول کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق حبس بیجا اور حوالگی کے کیس میں تنسیخ نکاح کی کارروائی نہیں ہوسکتی