صحافی فیاض سولنگی کی بازیابی کیلئےٹیمیں تشکیل
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2025 GMT
وقار حسین:ھنگورجہ کے صحافی فیاض سولنگی کا اغوا کیس، ایس ایس پی خیرپور توحید الرحمان میمن صحافی کی بازیابی کے لئے سرگرم ہوگئے، صحافی فیاض سولنگی کی بازیابی کے لئے وزیر اعلیٰ سندھ وزیر داخلہ اور آئی جی سندھ نے نوٹس لے لیا ہے۔
تفصیلات کےمطابق ھنگورجہ کے صحافی فیاض سولنگی کو بازیابی کرانے کے لئےایس ایس پی خیرپور توحید الرحمان میمن سرگرم ہوگئے ،پولیس ٹیم نے کام شروع کردیا۔
حماس کے پہلے 33 یرغمالیوں کی رہائی کا شیڈول
ایس ایس پی کا کہنا تھا کہ صحافی فیاض سولنگی کی بازیابی کے لئے وزیر اعلیٰ سندھ وزیر داخلہ اور آئی جی سندھ نے نوٹس لے لیا ہے اور صحافی کو باحفاظت بازیاب کرانے کے احکامات دیے ہیں۔
ایس ایس پی خیرپور نے صحافی کی بازیابی کے لئے ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں، ٹیم میں ڈی ایس پیز اور ایس ایچ اوز شامل ہیں۔
ایس ایس پی کا کہنا تھا کہ صحافی ہمارے معاشرے کی عکاسی کرتے ہیں صحافی کو باحفاظت بازیاب کرائیں گے ،صحافی کی بازیابی کے لئے حساس اداروں کی مدد لی جا رہی ہے،صحافی کے ورثا کے ساتھ رابطے میں ہیں، صحافی کو ہر حال میں باحفاظت بازیاب کرواکر دم لیں گے۔
جہلم کے جنگل میں آگ، فائر بریگیڈ گاڑیاں پہنچنا نا ممکن
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کی بازیابی کے لئے ایس ایس پی
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔