لاہور میں علما کرام کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ مجھے بتا دیں القادر یونیورسٹی میں کون سی مذہبی تعلیم دی جارہی ہے۔ کابینہ نے بند لفافہ منظور کرکے اس کے حوالے کیا جس نے چوری کی، 190 ملین پاؤنڈز تاریخ کا سب سے بڑا ڈاکہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے پی ٹی آئی کا سیاست کیلئے مذہب کارڈ کا استعمال افسوسناک ہے۔ لاہور میں علما کرام کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ 190 ملین پاؤنڈز اوپن اینڈ شٹ کیس تھا، عدالتی فیصلہ ملکی تاریخ کااہم ترین فیصلہ ہے، پی ٹی آئی دور میں ایسٹ ریکوری یونٹ بنایا گیا تھا، شہزاد اکبر نے ایسٹ ریکوری یونٹ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اپنی چوری چھپانے کیلئے مذہب کارڈ استعمال کررہی ہے، جب اس کیس میں قانونی دفاع نہ ہوا تو مذہب کارڈ استعمال کرنے لگے۔ پی ٹی آئی والے خدا کا خوف کریں یہ اس معاملے پر مذہب کو درمیان میں نہ لائیں، سیاست کیلئے مذہب کارڈ کا استعمال افسوسناک ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ مجھے بتا دیں القادر یونیورسٹی میں کون سی مذہبی تعلیم دی جارہی ہے۔ کابینہ نے بند لفافہ منظور کرکے اس کے حوالے کیا جس نے چوری کی، 190 ملین پاؤنڈز تاریخ کا سب سے بڑا ڈاکہ ہے، بانی پی ٹی آئی کو رشوت اور ڈاکے کی سزا ملی۔ عطا تارڈ نے کہا کہ کوئی بنیاد نہیں کہ کہا جائے کہ قانونی سقم رہ گیا، این سی اے نے پیسہ ضبط کرکے حکومت کے حوالے کیا ہے، یہ پیسہ پاکستان کے عوام کی فلاح و بہبود کیلئے تھا۔ شہباز شریف نے این سی اے کی تحقیقات میں خود کو کلیئر کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ وہی پیسہ ہے جس سے 25 کروڑ کا گھر بنایا گیا، بتایا جائے بانی پی ٹی آئی کے ذرائع آمدن کیا ہیں۔؟ پی ٹی آئی کے پاس اپیل کیلئے مضبوط مواد نہیں ہے، القادر ٹرسٹ کو حکومتی تحویل میں دے دیا گیا ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ القادر ٹرسٹ کیس میں کابینہ کے کسی رکن نے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا اس لیے کابینہ ارکان کو سزا نہیں دی گئی، کیس میں جو لوگ مفرور ہیں ان کی گرفتاری کی کوشش کررہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے مذاکرات کا مقصد ملک میں سیاسی استحکام لانا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: وفاقی وزیر اطلاعات کیلئے مذہب کارڈ کا کہنا تھا کہ پی ٹی ا ئی عطا تارڑ نے کہا

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ