پشاور(نیوز ڈیسک) محکمہ بلدیات کے پی نے پراپرٹی کو کارآمد بنا کر اس سے آمدن حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کر لی، جس کے لیے اس نے خیبر پختونخوا لوکل گورنمنٹ لیز رولز 2025 تیار کر لیے ہیں۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے خصوصی کاروبار دوست لیز متعارف کرائی گئی ہے، 250 سے 499 ملین تک سرمایہ کاری کرنے والوں کو پراپرٹی 49 سال تک لیز پر دی جائے گی۔

دستاویزات کے مطابق 500 ملین روپے سے زائد سرمایہ کاری کرنے والوں کو محکمہ بلدیات پراپرٹی 99 سالوں کے لیے لیز پر دے گی، اور رولز کے مطابق لیز میں سالانہ 7.

5 فی صد اضافہ کیا جائے گا۔

نئے، زائد المعیاد اور پرانے لیز کی منظوری تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن سے لینا لازمی ہوگی، مارکیٹ نرخ کے مطابق لیز دینے کے لیے 10 رکنی لیز کمیٹی تشکیل دی جائے گی، دفتر یا کمرشل لیز کا دورانیہ 15 سال ہوگا، جسے مزید 10 سال تک توسیع دی جا سکے گی۔

تحصیل کونسل کی بنائی گئی پراپرٹی کو 5 سال کے لیے لیز پر دیا جا سکے گا، کسی اراضی کو لیز کمیٹی کمیونٹی پراپرٹی قرار دے سکتا ہے، کمیونٹی پراپرٹی پر بینک، کمپنی یا کوئی اور عمارت قائم کی جائے گی، کسی قسم کی پراپرٹی کی تعمیر سے قبل کی اس کی اجازت لازمی ہوگی۔
مزیدپڑھیں:کراچی کو بجلی کے بڑے بریک ڈاؤن کا سامنا، ایکسٹرا ہائی ٹینشن لائن ٹرپ

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: کے مطابق کے لیے

پڑھیں:

اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر  کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔

اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ حکومت کا سرکاری ترجمانوں سے متعلق قانون سازی کا فیصلہ
  • این سی سی آئی اے کے افسران کو فرائض کی انجام دہی سے نہ روکا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ
  • پاکستان کے زرمبادلہ میں اضافے کے لیے سرمایہ کاری ناگزیر، قونصلیٹ ہر ممکن تعاون کرے گا: قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی
  • لاہور میں آج موسم ابرآلود، بارش کا کتنا امکان؟
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن