موریطانیہ کشتی حادثہ: جاں بحق ابوبکر 7 ماہ قبل روانہ ہوا، ایجنٹ کو 34 لاکھ ادا کیے، اہلِ خانہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2025 GMT
فائل فوٹو۔
موریطانیہ کشتی حادثے میں ایک اور جاں بحق پاکستانی نوجوان کی ایجنٹوں کے ہاتھوں پھنسنے کی کہانی سامنے آگئی۔
موریطانیہ کشتی سانحہ میں سیالکوٹ کا 18 سالہ ابوبکر بھی جاں بحق ہونے والوں میں شامل ہے، نواحی علاقے دھرم کوٹ سے تعلق رکھنے والے ابوبکر کے والد کا کہنا ہے کہ ایجنٹ نے 15 روز میں اسپین پہنچانے کا وعدہ کیا تھا۔
انکا کہنا تھا کہ ایجنٹوں نے 13 روز تک کشتی کو سمندر میں روکے رکھا۔ بیٹے کو کشتی میں تشدد کر کے مارنے کے بعد سمندر میں پھینک دیا گیا۔ بیٹے کو اسپین بھجوانے کےلیے ایجنٹ اعجاز کو 34 لاکھ روپے دیے تھے۔
یہ بھی پڑھیے موریطانیہ کشتی حادثے میں جاں بحق گجرات کے 9 افراد کی شناخت ہوگئی موریطانیہ کشتی حادثہ: انسانی اسمگلر گینگ کی مبینہ رکن گرفتاراہل خانہ نے مطالبہ کیا کہ بیٹے کی لاش کو پاکستان منتقل کرنے کےلیے حکومت مدد کرے۔
دوسری جانب موریطانیہ کشتی حادثے میں منڈی بہاءالدین کے گاؤں ماجھی سے تعلق رکھنے والے دو کزن اکرم اور ارسلان بھی ان افراد میں شامل ہیں جو لاپتہ ہیں جس کے بعد منڈی بہاءالدین کے لاپتہ نوجوانوں کی تعداد 10 ہوگئی ہے۔
ارسلان کے بھائی کا کہنا ہے کہ اس کے بھائی ارسلان اور کزن اکرم نے زمین بیچ کر 80 لاکھ روپے ایجنٹ کو دیے، اب ایجنٹ سے کوئی رابطہ نہیں ہو رہا۔ بتایا جائے کہ دونوں زندہ ہیں یا مر چکے ہیں؟
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: موریطانیہ کشتی
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔