خیبر پختونخوا میں سی این جی اسٹیشنز مزید 11 روز بند رکھنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2025 GMT
محکمہ داخلہ کی جانب سے اعلامیہ جاری کردیا گیا، خیبرپختونخوا میں گھریلو صارفین کو سوئی گیس پریشر میں کمی کی وجہ سے سوئی گیس نہیں مل رہی۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں سوئی گیس پریشر میں کمی کے باعث گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی کے لیے دفعہ 144 کے تحت سی این جی اسٹیشنز 31 جنوری تک کھولنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ محکمہ داخلہ کی جانب سے اعلامیہ جاری کردیا گیا، خیبرپختونخوا میں گھریلو صارفین کو سوئی گیس پریشر میں کمی کی وجہ سے سوئی گیس نہیں مل رہی۔ گھریلو صارفین کی جانب سے بار بار شکایت کی جارہی ہے جس پر حکومت نے نوٹس لیتے ہوئے صوبہ بھر میں سی این جی اسٹیشنز بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ داخلہ کی جانب سے اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے جس کے مطابق صوبہ بھر میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے جس کے تحت صوبہ بھر میں سی این جی اسٹیشنز 31 جنوری تک بند رہیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سی این جی اسٹیشنز کی جانب سے سوئی گیس
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔