ژوبپاک افغان بارڈر رپ دراندازی کی کوشش ناکام،فورسز سے مقابلے میں 5 دہشتگرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2025 GMT
اسلام آباد (صباح نیوز) سیکورٹی فورسز نے ژوب میں پاک افغان سرحد کے قریب کامیاب کارروائی کرتے ہوئے دراندازی کی کوشش کرنے والے 5 دہشت گرد ہلاک کر دیے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق خوارج کے ایک گروپ کی 18اور 19جنوری کی رات پاک افغان سرحد پر ضلع ژوب کے علاقے سمبازہ کے قریب نقل و حرکت دیکھی گئی جس پر سیکورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرکے دراندازی کی یہ کوشش ناکام بنادی،5 خوارج بھی مارے گئے۔ ترجمان کے مطابق پاکستان بارہا عبوری افغان حکومت سے کہتا رہا ہے کہ وہ سرحد پر اپنی اطراف میں موثر بارڈر مینجمنٹ کو یقینی بنائے، توقع ہے کہ عبوری افغان حکومت اپنی ذمے داریاں پوری کرے گی اور خوارج کی جانب سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کو جاری رکھنے کے لیے افغان سرزمین کے استعمال سے روکے گی۔آئی ایس پی آر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سیکورٹی فورسز اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانے اور ملک سے دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ادھرصدر مملکت آصف زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے سیکورٹی فورسز کو ضلع ژوب میں پاک افغان بارڈر پر دراندازی ناکام بنانے پر خراج تحسین پیش کیا ہے ۔ صدر مملکت نے ایک بیان میں دہشت گردوں کے خلاف بروقت کاروائی پر سیکورٹی فورسز کو سراہاصدر نے 5 دہشت گردوں کی ہلاکت پر سیکورٹی فورسز کی بہادری کی تعریف اور کہا کہ پاکستان کی بہادر سیکورٹی فورسز ملکی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ صدر مملکت نے دہشت گردی کے مکمل خاتمے، ملکی سرحدوں کی حفاظت کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم نے ضلع ژوب میں پاک افغان سرحد پر دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کاروائی پر سیکورٹی فورسز کی ستائش کی اور کہا کہ پاکستان کی بہادر افواج سرحدوں کی حفاظت کے لیے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑی ہیں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم سیکورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے۔ ملک سے ہر قسم کی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پر عزم ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پر سیکورٹی فورسز پاک افغان کے خلاف کے لیے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔