بھارت کے معروف جیولن تھرو ایتھلیٹ نیرج چوپڑا نے شادی کرلی، اہلیہ کون ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2025 GMT
بھارتی اولمپیئن جیولن تھروور نیرج چوپڑا رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئے۔
رپورٹ کے مطابق 2 بار کے جیولن تھروور اولمپک میڈلسٹ نیرج چوپڑا نے اتوار کو انسٹاگرام پر اپنے مداحوں کے ساتھ شادی کی خبر شئیر کی۔
پوسٹ میں نیرج نے لکھا کہ میں اور ہیمانی زندگی کے نئے باب کا آغاز کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے شادی کی کئی تصاویر بھی شیئر کیں۔
View this post on InstagramA post shared by Neeraj Chopra (@neeraj____chopra)
جوڑے نے قریبی دوستوں اور خاندان کے افراد کی موجودگی میں ایک نجی تقریب میں شادی کی۔
نیرج چوپڑا کی اہلیہ کون ہیں؟
ہریانہ سے تعلق رکھنے والی ہیمانی سابق ٹینس پلیئر ہیں اور اب وہ بطور اسپورٹس منیجر ذمہ داریاں سنبھال رہی ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ہیمانی نے 2015 سے 2018 تک نئی دہلی میں پولیٹکل سائنس اور فزیکل ایجوکیشن میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے امریکا سے اسپورٹس اور فٹنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹر کیا۔
ہیمانی نے دہلی یونیورسٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے ورلڈ یونیورسٹی گیمز میں بھی حصہ لیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔