سیف علی خان پر حملے کے بعد کرینہ کپور کا پہلا بیان سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2025 GMT
ممبئی : کرینہ کپور نے میڈیا اور فوٹو گرافرز کو سخت وارننگ دی ہے اور ان سے درخواست کی ہے کہ ان کے خاندان کی پرائیویسی کا احترام کریں۔ یہ بیان سیف علی خان پر 16 جنوری کو ہونے والے حملے کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں وہ شدید زخمی ہو گئے تھے۔
واقعہ ممبئی کے علاقے باندرہ میں سیف علی خان کی رہائش گاہ پر پیش آیا، جہاں ایک شخص چوری کی نیت سے داخل ہوا۔ سیف علی خان نے چور کو روکنے کی کوشش کی، جس کے دوران انہیں ریڑھ کی ہڈی کے قریب چاقو کا وار برداشت کرنا پڑا۔
سیف کو فوری طور پر اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے ان کی جان بچانے کے لیے کئی سرجریز کیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق، سیف اب خطرے سے باہر ہیں، مگر مزید دو دن اسپتال میں رہیں گے۔
سیف پر حملے کے بعد کرینہ کپور نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر میڈیا سے اپیل کی کہ وہ ان کے خاندان کو سکون دیں۔
انہوں نے لکھا: "ہمارے خاندان کے لیے یہ دن بہت مشکل تھا۔ ہم اس واقعے کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم میڈیا اور پاپارازی سے درخواست کرتے ہیں کہ قیاس آرائیوں اور غیر ضروری کوریج سے گریز کریں۔ ہمیں وقت اور سکون دیں تاکہ ہم اس وقت کا سامنا کر سکیں۔"
ایک ویڈیو سامنے آنے کے بعد، جس میں کرینہ کے گھر پر کھلونے لے جاتے ہوئے دکھایا گیا، کرینہ نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے انسٹاگرام اسٹوری میں لکھا: "بس کریں، ہمارا دل دکھ رہا ہے۔ خدا کے لیے ہمیں اکیلا چھوڑ دیں۔"
بعد میں کرینہ نے یہ پوسٹ ڈیلیٹ کر دی، لیکن تب تک یہ وائرل ہو چکی تھی۔
ممبئی پولیس نے واقعے کی ایف آئی آر درج کر لی ہے اور اس معاملے کی تحقیقات کے لیے مختلف ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔ حملے کو چوری کی کوشش کے دوران پیش آنے والا تشدد قرار دیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سیف علی خان کے بعد کے لیے
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔