قو می اسمبلی میں وزیرِ اعظم کی آمد،اپوزیشن کا ہنگامہ،ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دی گئیں
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2025 GMT
ویب ڈیسک: وزیرِاعظم شہباز شریف قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئے پہنچے تو ایک ہنگامہ مچ گیا، اپوزیشن اور حکومت نمائندگان کی جانب سے شدید نعرے بازی کی گئی، جس سے کارروائی کرنا محال ہوگیا۔
وزیراعظم کی قومی اسمبلی آمد پر اپوزیشن کی طرف سے ’’اوو اوو‘‘ کی آوازیں لگائی گئیں اور ایوان میں اپوزیشن کا احتجاج تیز تر ہوگیا، پی ٹی آئی اراکین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔
ایک مقدمہ سننے سے اتنی پریشانی ہو گئی بنچ سے کیس ہی منتقل کر دیا گیا؟ سپریم کورٹ
پی ٹی آئی اراکین اپنی نشستوں پر کھڑے ہوکر احتجاج کرتے رہے, اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خود بھی نعرے لگاتے رہے۔
دوسری جانب حکومتی اراکین نے وزیراعظم کی نشست کے گرد گھیرا ڈال لیا اور جوابی نعرے لگانے شروع کردئیے, وزیراطلاعات عطا تارڑ بھی نعرے لگانے والوں میں شامل تھے۔ ڈاکٹر طارق فضل عطا تارڑ حنیف عباسی سمیت کئی ن لیگی اراکین وزیراعظم اور اپوزیشن کے درمیان دیوار بن کر کھڑے ہوگئے۔
مستحقین کو اس بار رمضان نگہبان پیکیج کارڈز کی شکل میں ملے گا: مریم اورنگزیب
اسمبلی میں اتنا شور تھا کہ ایوان میں کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی لیکن سپیکر نے ایوان کی کارروائی کانوں پر ہیڈفون لگاکر سپیکر نے جاری رکھی۔
ایوان میں پیپلز پارٹی اراکین اپنی نشستوں پر بیٹھے تمام صورتحال سے لاتعلق نظر آئے جبکہ اپوزیشن نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر ایوان میں اچھال دیں۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ایوان میں
پڑھیں:
مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے انسانی و مکینل وسائل بروئے کار لانے کا حکم دے دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ دریاؤں، ڈیموں اور بیراج پر نہانے پر پابندی یقینی بنائی جائے اور دریاؤں، ڈیموں اور بیراج کی ڈرون سے مانیٹرنگ کی جائے۔انہوں نے کہا کہ عوام کو بارش اور فلڈ سے آگاہ کرنے کے لیے مساجد اور میڈیا پر اعلانات کیے جائیں۔کرنٹ لگنے سے ہلاکتوں پر مریم نواز نے لیسکو اور دیگر بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو نوٹس لینے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی غفلت کی وجہ سے لوگ جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کھمبوں پر بجلی کے بے ہنگم لٹکتے تار انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے واسا کمپلینٹ ہیلپ لائن پر فوری ایکشن کا ریکارڈ مرتب کرنے کی ہدایت کی۔مریم نواز نے مون سون کے دوران ہر کنسٹرکشن سائٹ کو باقاعدہ محفوظ بنانے کی ہدایت دی اور کہا کہ انتظامیہ خستہ حال عمارتوں کا جائزہ لے کر رضاکارانہ طور پر خالی کروائے۔