سپریم کورٹ:ایڈیشنل رجسٹرار (جوڈیشل)سنگین غفلت پر عہدے سے برطرف
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2025 GMT
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے عدالتی حکم کے باوجود بینچز اختیارات کیس سماعت کے لیے مقرر نہ ہونے پر سخت اقدام اٹھاتے ہوئے گریڈ 21 کے افسر اور ایڈیشنل رجسٹرار (جوڈیشل) نذر عباس کو عہدے سے ہٹا دیا۔
ایڈیشنل رجسٹرار ایڈمن پرویز اقبال کے دستخط سے جاری نوٹیفکیشن میں نذر عباس کو عہدے سے فارغ کرکے او ایس ڈی بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ رجسٹرار سپریم کورٹ کی منظوری کے بعد یہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، جس میں نذر عباس کو فوری طور پر رجسٹرار آفس رپورٹ کرنے کی ہدایت دی گئی۔
سپریم کورٹ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ایک اہم کیس جو کسٹم ایکٹ سے متعلق تھا، آئینی بینچ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر ہونا چاہیے تھا، مگر اسے معمول کے بینچ کے سامنے پیش کر دیا گیا۔ اس غلطی کے باعث ادارے اور فریقین کے قیمتی وقت اور وسائل کا ضیاع ہوا۔
جب اس غفلت کا ادراک ہوا تو پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے تحت جوڈیشل برانچ نے معمول کی کمیٹی سے رجوع کیا۔ کمیٹی نے 17 جنوری 2025 کو چیف جسٹس کی سربراہی میں اجلاس منعقد کیا، جس میں آئین کے آرٹیکل191A کے تحت مقدمات آئینی بینچ کے دائرہ اختیار میں ہونے کی توثیق کی گئی۔
کمیٹی نے زیر التوا تمام مقدمات کی جانچ پڑتال تیز کرنے اور آئندہ ایسے تمام کیسز کو آئینی بینچ کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت دی۔ مزید برآں نئے داخل ہونے والے مقدمات کی سخت چھان بین کا عمل اپنانے پر زور دیا گیا تاکہ مستقبل میں ایسی سنگین غلطیوں سے بچا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سپریم کورٹ بینچ کے
پڑھیں:
نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری کردیاگیا
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری کردیاگیا۔
نجی ٹی وی چینل جیونیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عدالتیں میڈیا کی پذیرائی یا عوامی مقبولیت کے کیلئے فیصلے نہیں کرسکتیں ،عدالت کا بنیادی فرض آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہے،قانون سے ہٹ کردائرہ اختیار کو اختیار کرنا یافرض کر لینا عدالتی اصولوں کے منافی ہے،عدالت نہ غیرقانونی دائرہ اختیار استعمال کر سکتی ہے، نہ قانونی دائرہ اختیار سے دستبردار ہو سکتی ہے،دائرہ اختیار کا تعین صرف آئین اور قانون کرتے ہیں۔
سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 175کے تحت ہر عدالت صرف وہی دائرہ اختیار استعمال کرسکتی ہے جو آئین یا قانون نے دیا ہو، آئین اور قانون کی مقررہ حدود سے تجاوز اختیارات سے ناجاز تجاوز کے مترادف ہے،دائرہ اختیار کے بغیر دیا گیا فیصلہ کالعدم اورغیرموثر ہوتا ہے،دائرہ اختیار کے بغیر فیصلے کو رم نان جوڈائس کے اصول کی زد میں آتے ہیں،ہر عدالت اپنے آئینی اور قانونی دائرہ اختیار کی پابند ہے،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے دائرہ ہائے اختیار الگ الگ ہیں،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے اختیارات ایک دوسرے پر حاوی نہیں ،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ ایک دوسرے کے اختیار میں مداخلت بھی نہیں کر سکتے۔
اداکارہ روما مائیکل اداکار شان بیگ سے شادی کے بندھن میں بندھ گئیں
عدالت نے کہاکہ ایک ہی مقدمے پردو متوازی عدالتی دائرہ ہائے اختیار قانون میں قابل قبول نہیں،ایک ہی مقدمے میں ضمانت سپریم کورٹ اوراپیل وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چل سکتی،جہاں قانون اپیل کا حق فراہم نہ کرے وہاں فریق اپنے پسند سے نیا قانونی راستہ اختیار نہیں کرسکتا، قانون فورم شاپنگ یعنی پسند کی عدالت منتخب کرنے کے رجحان کی اجازت نہیں دیتا، صرف فریقین کی خواہش یا رضا مندی سے عدالت دائرہ اختیار استعمال نہیں کرسکتی،عدالت فریقین کی منشاء یا خواہش پر لامحدود دائرہ اختیار استعمال نہیں کر سکتی۔
آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک
مزید :