بلوچستان کے عوام کی مایوسی کو ختم کرنا ہوگا، مولانا ہدایت الرحمٰن
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2025 GMT
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر مولانا ہدایت الرحمان نے کہا کہ اگر بلوچستان کے عوام کو انکے بنیادی حقوق نہ دیئے گئے تو اسکا اثر پورے ملک پر پڑیگا۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمان نے کہا ہے کہ بلوچستان کو ڈنڈے کے زور پر چلایا جا رہا ہے۔ جہاں عوام کی جان، مال اور عزت کسی طور محفوظ نہیں ہے۔ یہ بات انہوں نے حب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے بلوچستان میں بڑھتی ہوئی بدامنی، مایوسی اور عوامی مسائل پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں بدامنی عروج پر ہے۔ طالب علم، مزدور، مسافر اور عام شہری بھی محفوظ نہیں ہیں۔ بلوچستان کے ہر گوشے میں خوف اور مایوسی نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ باہر سے آنے والی قوتیں پاکستان کے استحکام کے نام پر بلوچستان کو قبرستان میں تبدیل کر رہی ہیں۔ یہ صورتحال عوام کے آئینی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے بلوچستان میں روزگار کی کمی کو آئین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ عوام کو روزگار فراہم کرے، لیکن بدقسمتی سے عوام کو ان کے حقوق دینے کے بجائے محروم رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بارڈر کو بند کرنے کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جو دہشت گردی کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔
مولانا ہدایت الرحمان نے کہا کہ ضلع لسبیلہ اور ضلع گوادر میں ٹرالر مافیا نے اپنا راج قائم کر رکھا ہے، جو مقامی ماہی گیروں کے لئے سنگین مسائل پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی ماہی گیر، جن کا روزگار سمندر سے وابستہ ہے۔ ٹرالر مافیا کے ہاتھوں بے بس ہو گئے ہیں اور حکومت ان مسائل کو حل کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بطور ریاست محفوظ ہاتھوں میں ہے، لیکن بدقسمتی سے قوم غیر محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کی مایوسی کو ختم کرنا ہوگا اور ان کے حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا، تاکہ صوبے میں امن اور ترقی کا ماحول پیدا ہو سکے۔ مولانا ہدایت الرحمان نے کہا کہ بلوچستان کی موجودہ صورتحال ملک کے دیگر حصوں کے لئے بھی خطرناک ہے۔ اگر بلوچستان کے عوام کو ان کے بنیادی حقوق نہ دیئے گئے تو اس کا اثر پورے ملک پر پڑے گا۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ بلوچستان کے مسائل کے حل کے لئے فوری اور ٹھوس اقدامات کرے، تاکہ صوبے میں عوام کا اعتماد بحال ہو اور ترقی کی راہ ہموار ہو سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بلوچستان کے عوام انہوں نے کہا کہ عوام کو
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔