راکھی ساونت نے پاکستانی لڑکے کے ساتھ شادی کی خواہش کا اظہار کردیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2025 GMT
بالی ووڈ کی معروف اداکارہ اور ڈانسر راکھی ساونت نے حالیہ انٹرویو میں اپنے منفرد خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سابق پاکستانی کرکٹر وسیم اکرم کے ساتھ آئٹم سانگ کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ ان کا یہ انٹرویو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔
راکھی ساونت نے پاکستانی مداحوں کے لیے محبت کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "پاکستان میں میرے کئی مداح ہیں جو مجھے تحائف بھیجتے ہیں۔ میں نے پاکستان کا نمک کھایا ہے، اس لیے میرا دل پاکستانی عوام کے لیے دھڑکتا ہے۔"
اداکارہ نے اپنے انٹرویو میں وسیم اکرم سے ایک ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ جب انہوں نے وسیم اکرم سے ہاتھ ملایا تو انہیں کرنٹ لگ گیا۔ راکھی نے کہا، "وسیم اکرم کو میرے ساتھ آئٹم سانگ ضرور کرنا چاہیے۔"
View this post on InstagramA post shared by Murtaza Ali Shah (@murtazaviews)
راکھی ساونت نے اپنی دوسری شادی کے حوالے سے دلچسپ خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "میری خواہش ہے کہ اس بار میں دبئی میں کسی پاکستانی لڑکے سے شادی کروں، اور وسیم اکرم اس شادی میں مہمان خصوصی ہوں۔"
راکھی ساونت کا انٹرویو نہ صرف ان کے مداحوں میں مقبول ہو رہا ہے بلکہ ان کے منفرد بیانات نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: راکھی ساونت نے کرتے ہوئے وسیم اکرم کا اظہار
پڑھیں:
قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
وفاقی آئینی عدالت میں اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کردیے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ عدالت نے کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا، ماریہ شہباز کم عمر ہے اسے ورغلا کر مذہب تبدیلی کرائی گئی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ عمر کم بھی ہو تو ایک شادی اگر ہوجائے تو قانون میں اس کا حل کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ شادی کیلئے 18 سال کی عمر کا قانون ہے، قانون کی خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، بچی نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے آئینی عدالت تک کہیں نہیں کہا کہ اس کیساتھ زبردستی ہوئی،
آپ کا اسرار ہے تو اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل سے معاونت لے لیتے ہیں۔
عدالت نے مقدمہ کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی، جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔
آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کی والد کو حوالگی کی درخواست خارج کی تھی، عدالت نے قرار دیا تھا کہ بچی کے تنسیخ نکاح کیلئے سول کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق حبس بیجا اور حوالگی کے کیس میں تنسیخ نکاح کی کارروائی نہیں ہوسکتی