پیپلزپارٹی سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کا اجلاس، مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس فوری بلانے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2025 GMT
پیپلزپارٹی سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کا اجلاس، مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس فوری بلانے کا مطالبہ WhatsAppFacebookTwitter 0 24 January, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی جنرل سیکریٹری نیئر بخاری نے کہا ہے کہ سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کے اجلاس میں متنازع نہروں کی تعمیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے 11 ماہ سے التوا کے شکار مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس کو فوری بلانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس زرداری ہاس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں سی ای سی کے تمام اراکین کی شرکت کی۔
اسلام آباد میں دیگر رہنماں کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کرم کی صورتحال کے حوالے سے سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ وفاق اور صوبائی حکومتیں اپنی ذمہ داری نبھائیں اور وہاں پر امن کی صورتحال بڑی تشویشناک ہے، وہاں پر اقدامات اٹھائیں جائیں اور امن قائم کیا جائے۔
انہوں نے بتایا کہ پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی نے حکومتی وعدوں کے تحت پنجاب اور اسلام آباد میں مقامی حکومت کے انتخابات کا مطالبہ کیا ہے۔نیئر بخاری کا کہنا تھا کہ سی ای اسی نے متنازع نہروں کی تعمیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے 11 ماہ سے التوا کے شکار مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس کو فوری بلانے کا مطالبہ کیا، اور متنازع کینالوں کے معاملے کو فوری طور پر مشترکہ مفادات کونسل میں اٹھانے کا مطالبہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کی قرارداد میں پی ڈبلیو ڈی، کراچی ڈاک لیبر بورڈ، یوٹیلیٹی اسٹورز، پاسکو، این ایف سی اور دیگر اداروں میں مزدور دشمن اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں حکومت کی زرعی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا، اسی طرح بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے فنڈز کے فی الفور اجرا کا مطالبہ کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: فوری بلانے کا مطالبہ مشترکہ مفادات کونسل تشویش کا اظہار کا مطالبہ کیا اسلام آباد کرتے ہوئے کا اجلاس
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :