بھارت کے پاس یوم جمہوریہ منانے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے، ڈی ایف پی
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2025 GMT
ترجمان نے بھارتی حکمرانوں کے دوہرے معیار کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف بھارتی قیادت سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے بلند و بانگ دعوے کرتی ہے تو دوسری طرف کشمیریوں کو ان کے بنیادی حقوق سے بھی محروم کر رکھا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی سمیت حریت پسند تنظیموں نے کہا ہے کہ کشمیریوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کرنے والے بھارت کے پاس اپنا یوم جمہوریہ منانے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈی ایف پی کے ترجمان ایڈووکیٹ ارشد اقبال نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں علاقے پر بھارتی قبضے اور کشمیریوں کے سیاسی اور انسانی حقوق کی بے دریغ پامالیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ملک جو قتل و غارت اور ظلم و بربریت میں ملوث ہے اور جس نے کئی دہائیوں سے کشمیریوں کو یرغمال بنا رکھا ہے، اسے یوم جمہوریہ منانے کا کوئی حق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا جانتی ہے کہ بھارت ایک غاصب ملک ہے جس نے کشمیریوں کی امنگوں اور ان کے جمہوری حقوق کو اپنے پائوں تلے روندنے کے ساتھ ساتھ انہیں گزشتہ 77 سال سے غیر قانونی فوجی قبضے میں رکھا ہوا ہے۔
ترجمان نے بھارتی حکمرانوں کے دوہرے معیار کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف بھارتی قیادت سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے بلند و بانگ دعوے کرتی ہے تو دوسری طرف کشمیریوں کو ان کے بنیادی حقوق سے بھی محروم کر رکھا ہے۔ انہوں نے سرینگر اور وادی کشمیر کے دیگر علاقوں میں بھارتی فوج کی طرف سے محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں اور مسافروں کی چیکنگ پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔انہوں نے حق خودارادیت کے حصول کے لئے کشمیریوں کی جدوجہد کو ایک جائز تحریک قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیری جنہوں نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران بے مثال قربانیاں پیش کی ہیں، اس وقت تک ہر محاذ پر اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے جب تک کہ وہ بھارتی قبضے سے آزادی کا اپنا اہم مقصد حاصل نہیں کر لیتے۔
دریں اثناء تحریک وحدت اسلامی کے چیئرمین فیاض حسین جعفری اور پیروان ولایت کے سربراہ مولانا سید سبط شبیر قمی نے سرینگر سے جاری اپنے بیانات میں کہا ہے کہ بھارت کوئی جمہوری ملک نہیں بلکہ ایک جارح اور غاصب ہے جس نے گزشتہ سات دہائیوں سے جموں و کشمیر پر غیر قانونی طور پر قبضہ کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کا سب سے بڑا نام نہاد جمہوری ملک بھارت فوجی طاقت کے بل پر کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دبانے کی کوشش کر رہا ہے اور مقبوضہ علاقے میں جمہوری اقدار اور اصولوں کی دھجیاں اڑا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کشمیریوں کو ہوئے کہا کہ انہوں نے رکھا ہے
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔