بینچز اختیارات کیس، ایڈیشنل رجسٹرار توہین عدالت کیس کا فیصلہ کل سنایا جائے گا
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2025 GMT
بینچز اختیارات کیس، ایڈیشنل رجسٹرار توہین عدالت کیس کا فیصلہ کل سنایا جائے گا WhatsAppFacebookTwitter 0 26 January, 2025 سب نیوز
اسلام آباد: بینچز اختیارات کیس سے متعلق سپریم کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار کے خلاف توہین عدالت کیس کا محفوظ شدہ فیصلہ کل سنایا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل عباسی پر مشتمل بینچ نے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
یاد رہے کہ 3 روز قبل سپریم کورٹ نے بینچز اختیارات کیس کی سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جب کہ سماعت کے دوران جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے تھے کہ بادی النظر میں 2 رکنی ججز کمیٹی نے جوڈیشل آرڈر کو نظرانداز کیا، ججز کمیٹی کو توہین عدالت کا نوٹس دے سکتے ہیں لیکن دیں گے نہیں۔
سپریم کورٹ میں بینچز کے اختیارات کا کیس مقرر نہ کرنے پر توہینِ عدالت کی سماعت جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل عباسی پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کی تھی۔
گزشتہ روز سپریم کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار توہین عدالت کے حوالے سے انٹر کورٹ اپیل میں انکشاف کیا گیا تھا کہ عدالت عظمیٰ کے حکم ناموں میں سماعت کے لیے تاریخوں کے ردوبدل کیا گیا۔
ایڈیشنل رجسٹرار نے انٹراکورٹ اپیل میں جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں ہونے والی سماعت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بینچز اختیارات کا مقدمہ 13 جنوری کو 27 جنوری تک ملتوی کیا گیا تھا۔
انٹرا کورٹ اپیل میں ایڈیشنل رجسٹرار نے کہا کہ بعد میں ملنے والے دوسرے حکم نامے میں سماعت کی تاریخ تبدیل کردی گئی اور دوسرے حکم نامے میں سماعت کی 27 جنوری کی تاریخ کو 16 جنوری کردی گئی۔
انہوں نے کہا کہ 16جنوری کو سماعت کے دوران ایک جج نے خود کو مذکورہ بینچ سے الگ کرلیا۔
ایڈیشنل رجسٹرار نے انٹرا کورٹ اپیل میں کہا کہ میرے خلاف شوکاز نوٹس واپس لیا جائے، مجھے اس معاملے میں قربانی کا بکرا بنایا گیا، ایک طرف مجھے عدالت نے شوکاز نوٹس جاری کیا تو دوسری طرف پریس ریلیز جاری کرکے مجھے او ایس ڈی بنا دیا گیا۔
اپیل میں انہوں نے مؤقف اپنایا کہ کہا گیا میری غلطی سے کیس ریگولر بنچ میں فکس ہوا، مجھے اس معاملے میں دوہری سزا دی گئی، شوکاز نوٹس جاری کرنے سے قبل مجھے وضاحت دینے کا موقع فراہم نہ کرنا سپریم کورٹ رولز 1980 کی خلاف ورزی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مجھے شوکاز نوٹس جاری کرنے سے قبل نیچرل جسٹس کے اصول کو مدنظر نہیں رکھا گیا لہٰذا مجھے جاری کیا گیا شوکاز نوٹس کالعدم اور رجسٹرار آفس کا جاری کیا گیا آرڈر بھی خلاف قانون قرار دیا جائے۔
ایڈیشنل رجسٹرار نے مؤقف اپنایا کہ میرے خلاف چلائے گئے کیس پر حکم امتناع جاری کیا جائے اور توہین عدالت کیس کا پورا ریکارڈ منگوایا جائے تاکہ فیصلہ ہو سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: بینچز اختیارات کیس توہین عدالت کیس کا ایڈیشنل رجسٹرار
پڑھیں:
سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، فریقین کو نوٹس جاری
وفاقی آئینی عدالت نے سہیل آفریدی کے خلاف دائر مختلف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کردی ہیں، جبکہ عمران خان رہائی فورس کے خلاف دائر درخواست اور خیبرپختونخوا میں 9 مئی کے مقدمات واپس لینے کے خلاف اپیل پر 29 جولائی کو سماعت ہوگی۔
چیف جسٹس جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں آئینی عدالت کا 3 رکنی بینچ ان درخواستوں کی سماعت کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے وارنٹ گرفتاری، کیا مقدمات کے باعث ان کی کرسی خطرے میں ہے؟
عدالت نے خیبرپختونخوا حکومت سمیت تمام متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں، آئینی عدالت اس سے قبل 9 مئی کے مقدمات کی واپسی کے حکومتی فیصلے پر حکم امتناع بھی جاری کرچکی ہے۔
ریڈیو پاکستان کی جانب سے پشاورمیں ریڈیو پاکستان پر حملے سے متعلق مقدمہ واپس لینے کے خیبرپختونخوا حکومت کے فیصلے کو آئینی عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: ریاستی اداروں پر گمراہ کن الزامات لگانے کا کیس: سہیل آفریدی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
درخواست میں ریڈیو پاکستان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مقدمہ خیبرپختونخوا سے کسی دوسرے صوبے منتقل کیا جائے، جس کی استدعا بھی عدالت کے سامنے زیر غور آئے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
9 مئی جسٹس امین الدین خان چیف جسٹس حکم امتناع خیبر پختونخوا رہائی فورس ریڈیو پاکستان سہیل آفریدی عمران خان وزیر اعلی وفاقی آئینی عدالت