واٹس ایپ کا نیا فیچر، ایک ایپ میں کئی اکاؤنٹس لاگ ان کرنے کی سہولت
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2025 GMT
واٹس ایپ نے آئی او ایس ڈیوائسز کے بیٹا ورژن میں ملٹی اکاؤنٹ فیچر متعارف کرایا ہے، جس سے صارفین ایک ہی ایپ کے ذریعے کئی اکاؤنٹس لاگ ان کر سکیں گے۔
WABetaInfo کی رپورٹ کے مطابق، اس فیچر کے ذریعے مختلف اکاؤنٹس استعمال کرنے کے لیے اضافی ڈیوائسز کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔ صارفین واٹس ایپ کی سیٹنگز میں جا کر اس فیچر کو فعال یا مینیج کر سکتے ہیں۔
یہ خصوصیت ان افراد کے لیے زیادہ کارآمد ہے جو ایک سے زیادہ فون نمبر رکھتے ہیں۔ اس سے واٹس ایپ اور واٹس ایپ بزنس دونوں میں متعدد اکاؤنٹس کو ایک ساتھ استعمال کرنا ممکن ہوگا۔
اکاؤنٹس شامل کرنے کے لیے دو طریقے دستیاب ہیں: یا تو نیا پرائمری اکاؤنٹ سیٹ کیا جا سکتا ہے یا کیو آر کوڈ کے ذریعے پہلے سے موجود اکاؤنٹ شامل کیا جا سکتا ہے۔ ہر اکاؤنٹ الگ نوٹیفکیشنز، چیٹ ہسٹریز اور سیٹنگز کے ساتھ آزادانہ طور پر کام کرے گا۔
یہ فیچر بیٹا ورژن میں دستیاب ہے اور عام صارفین کو فراہم کیے جانے کا وقت ابھی واضح نہیں، تاہم توقع ہے کہ آئندہ چند ماہ میں یہ آئی او ایس اور اینڈرائیڈ صارفین کے لیے جاری کر دیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nai Baat
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔