واٹس ایپ کا نیا فیچر، ایک ایپ میں کئی اکاؤنٹس لاگ ان کرنے کی سہولت
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2025 GMT
واٹس ایپ نے آئی او ایس ڈیوائسز کے بیٹا ورژن میں ملٹی اکاؤنٹ فیچر متعارف کرایا ہے، جس سے صارفین ایک ہی ایپ کے ذریعے کئی اکاؤنٹس لاگ ان کر سکیں گے۔
WABetaInfo کی رپورٹ کے مطابق، اس فیچر کے ذریعے مختلف اکاؤنٹس استعمال کرنے کے لیے اضافی ڈیوائسز کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔ صارفین واٹس ایپ کی سیٹنگز میں جا کر اس فیچر کو فعال یا مینیج کر سکتے ہیں۔
یہ خصوصیت ان افراد کے لیے زیادہ کارآمد ہے جو ایک سے زیادہ فون نمبر رکھتے ہیں۔ اس سے واٹس ایپ اور واٹس ایپ بزنس دونوں میں متعدد اکاؤنٹس کو ایک ساتھ استعمال کرنا ممکن ہوگا۔
اکاؤنٹس شامل کرنے کے لیے دو طریقے دستیاب ہیں: یا تو نیا پرائمری اکاؤنٹ سیٹ کیا جا سکتا ہے یا کیو آر کوڈ کے ذریعے پہلے سے موجود اکاؤنٹ شامل کیا جا سکتا ہے۔ ہر اکاؤنٹ الگ نوٹیفکیشنز، چیٹ ہسٹریز اور سیٹنگز کے ساتھ آزادانہ طور پر کام کرے گا۔
یہ فیچر بیٹا ورژن میں دستیاب ہے اور عام صارفین کو فراہم کیے جانے کا وقت ابھی واضح نہیں، تاہم توقع ہے کہ آئندہ چند ماہ میں یہ آئی او ایس اور اینڈرائیڈ صارفین کے لیے جاری کر دیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nai Baat
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔