واٹس ایپ نے آئی او ایس ڈیوائسز کے بیٹا ورژن میں ملٹی اکاؤنٹ فیچر متعارف کرایا ہے، جس سے صارفین ایک ہی ایپ کے ذریعے کئی اکاؤنٹس لاگ ان کر سکیں گے۔

WABetaInfo کی رپورٹ کے مطابق، اس فیچر کے ذریعے مختلف اکاؤنٹس استعمال کرنے کے لیے اضافی ڈیوائسز کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔ صارفین واٹس ایپ کی سیٹنگز میں جا کر اس فیچر کو فعال یا مینیج کر سکتے ہیں۔

یہ خصوصیت ان افراد کے لیے زیادہ کارآمد ہے جو ایک سے زیادہ فون نمبر رکھتے ہیں۔ اس سے واٹس ایپ اور واٹس ایپ بزنس دونوں میں متعدد اکاؤنٹس کو ایک ساتھ استعمال کرنا ممکن ہوگا۔

اکاؤنٹس شامل کرنے کے لیے دو طریقے دستیاب ہیں: یا تو نیا پرائمری اکاؤنٹ سیٹ کیا جا سکتا ہے یا کیو آر کوڈ کے ذریعے پہلے سے موجود اکاؤنٹ شامل کیا جا سکتا ہے۔ ہر اکاؤنٹ الگ نوٹیفکیشنز، چیٹ ہسٹریز اور سیٹنگز کے ساتھ آزادانہ طور پر کام کرے گا۔

یہ فیچر بیٹا ورژن میں دستیاب ہے اور عام صارفین کو فراہم کیے جانے کا وقت ابھی واضح نہیں، تاہم توقع ہے کہ آئندہ چند ماہ میں یہ آئی او ایس اور اینڈرائیڈ صارفین کے لیے جاری کر دیا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nai Baat

کلیدی لفظ: واٹس ایپ کے لیے

پڑھیں:

ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار

اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔

سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔

ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔

ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف