اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ نے ایڈیشنل رجسٹرار کی توہین عدالت کارروائی کیخلاف انٹراکورٹ اپیل واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی،عدالت نے کہاکہ بنچ کی اکثریت انٹراکورٹ اپیل نمٹانے کی وجوہات دے گی،جسٹس اطہر اور جسٹس شاہد وحید نے درخواست بغیر وجوہات واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی،4ججز اپیل نمٹانے کی وجوہات جاری کریں گے،جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس حسن اظہر رضوی وجوہات جاری کریں گے۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق ایڈیشنل رجسٹرار کی توہین عدالت کارروائی کیخلاف انٹراکورٹ اپیل پر سماعت ہوئی،جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں 6رکنی بنچ نے سماعت کی،جسٹس اطہر من اللہ نے بنچ سے الگ ہونے کا عندیہ دیدیا۔جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ اگر یہ بنچ کارروائی جاری رکھنا چاہتا ہے تو میں الگ ہو جاؤں گا، ہمارے سامنے اس وقت کوئی کیس ہے ہی نہیں،ہمارے سامنے جو اپیل تھی وہ غیرموثر ہو چکی،اگر بنچ کارروائی جاری رکھنا چاہتا ہے تو میں معذرت کروں گا۔

شان مسعود کپتانی سے متعلق صحافی کے سوال پر ناراض ہو گئے 

جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ کہا گیا ہمارے مفادات کا معاملہ ہے اس لئے ہم نہ بیٹھیں،آج یہ مفادات والے معاملے پر مجھے بول لینے دیں،آئینی بنچ میں شامل کرکے ہمیں کونسی مراعات دی گئیں؟ہم دو ، دو بنچ روزانہ چلا رہے ہیں تو یہ مفادات ہیں؟آئینی بنچ میں بیٹھناہمارامفاد ہے تو جو نہیں شامل وہ متاثرین میں آئیں گے؟پھرمفادات والے اور متاثرین دونوں یہ کیس نہیں سن سکتے،ایسی صورت میں پھر کسی ہمسایہ ملک کے ججز لانا پڑیں گے،کوئی ایک وکیل بتا دے، آئینی بنچ میں بیٹھ کر ہمیں کیا مفاد مل رہا ہے؟ہماراواحد مفاد آئین کا تحفظ کرنا ہے۔

آپ کے سوال میں بہت زیادہ تضحیک تھی'، شان مسعود کپتانی سے متعلق سوال پر ناراض ہوگئے

جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ جس انداز میں توہین عدالت کا مرتکب قرار دیاگیامیں کمیٹی اجلاس میں نہیں جاؤں گا، آنے والے ساتھی ججز کو توہین عدالت سے بچانا چاہتے ہیں۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ ملک کو آئین کے مطابق نہیں چلایا جا رہا،بدقسمتی ہے تاریخ سے سبق نہ ججز نے سیکھا، نہ سیاستدان اور نہ ہی قوم نے۔

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: انٹراکورٹ اپیل توہین عدالت نے کہاکہ

پڑھیں:

باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور

سپریم کورٹ آف پاکستان نے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ بین الاقوامی ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام میں فعال شرکت کرتے ہوئے عالمی سطح پر عدالتی تعاون، پیشہ ورانہ مہارت اور جدید نظامِ انصاف کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے متبادل نظامِ حلِ تنازعات (ADR) کی اہمیت پر خصوصی لیکچر بھی دیا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے عالمی سطح پر عدالتی مہارت اور بین الاقوامی عدالتی تعاون کے فروغ کی کوششوں میں مؤثر کردار ادا کرتے ہوئے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام میں شرکت کی۔

سپریم کورٹ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق 4 روزہ تربیتی پروگرام 21 سے 24 جولائی 2026 تک منعقد ہوا، جس کا اہتمام پاکستان اور آذربائیجان کی وزارت ہائے انصاف کے اشتراک سے کیا گیا۔

اس پروگرام میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی نمائندگی جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کی، جنہوں نے ممتاز ریسورس پرسن کی حیثیت سے شرکت کرتے ہوئے دنیا بھر سے آئے ہوئے ججز، قانونی ماہرین اور انصاف کے شعبے سے وابستہ شخصیات کے ساتھ عدالتی تجربات اور بہترین عملی طریقوں کا تبادلہ کیا۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ‘ADR: A Global Perspective – A Guide for Judges’ کے موضوع پر خصوصی لیکچر دیتے ہوئے انصاف تک بروقت اور مؤثر رسائی میں متبادل نظامِ حلِ تنازعات (Alternative Dispute Resolution – ADR) کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ متبادل نظامِ حلِ تنازعات عدالتی کارکردگی کو بہتر بنانے، مقدمات کے بوجھ میں کمی لانے اور نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد کے فروغ میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے پاکستان میں متبادل نظامِ حلِ تنازعات کے ارتقا پذیر قانونی فریم ورک اور اس حوالے سے عالمی تجربات کا بھی جائزہ پیش کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ججز کو جدید تنازعاتی حل کے طریقوں سے آراستہ کرنا بروقت، مؤثر اور عوام دوست انصاف کی فراہمی کے لیے ناگزیر ہے۔

پریس ریلیز کے مطابق 4 روزہ پروگرام کے دوران عدالتی مہارت، عدالتی اخلاقیات، ادارہ جاتی دیانت داری، کیس مینجمنٹ، عدالتی طرزِ عمل، ابلاغی مہارت، عدالتی ریکارڈ کی الیکٹرانک آرکائیونگ، ڈیٹا کی درستگی اور عدالتی فیصلہ سازی کے جدید رجحانات سمیت مختلف موضوعات پر خصوصی سیشنز اور تبادلۂ خیال کیا گیا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ عدالتی تعلیم، ادارہ جاتی شراکت داری، بین الاقوامی عدالتی تعاون اور بہترین عدالتی طریقہ کار کے تبادلے کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

باکو آذربائیجان بین الاقوامی ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام سپریم کورٹ آف پاکستان متبادل نظامِ انصاف میاں گل حسن اورنگزیب

متعلقہ مضامین

  • اغوا برائے تاوان کیس: پولیس نے منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا، ضمانت واپس لینے کی درخواست
  • سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، فریقین کو نوٹس جاری
  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس